Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ: پبلک ٹرانسپورٹ میں اسلاموفوبک حملوں میں اضافہ، ’مسلمان سفر محدود کر رہے ہیں‘

عقیلہ احمد کے مطابق، مسلمانوں کے خلاف جسمانی اور زبانی حملوں کی ایک بڑی تعداد اس واقعات کی ہے جہاں سکول جانے اور واپس آنے والے بچے نشانہ بنتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ’اسلاموفوبک‘ حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، کمیونٹی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے مسلمان بدسلوکی اور حملوں کے خوف سے اپنے سفر محدود کر رہے ہیں۔
معلومات تک رسائی کی ایک درخواست کے نتیجے میں معلوم ہوا ہے کہ برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کی جانب سے انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں درج کیے گئے نسلی نفرت کے جرائم کی تعداد 2019-2020 میں 2,827 سے بڑھ کر 2024-25 میں 3,258 ہو گئی۔
دی گارڈین کے مطابق، عوامی ٹرانسپورٹ کا ماحول ایک خاص نوعیت کی صورتحال پیدا کرتا ہے جہاں حملہ آور اکثر شراب کے زیرِ اثر حوصلہ پکڑ لیتے ہیں، اپنے ٹارگٹ کو الگ تھلگ کرتے ہیں اور پھر اگلے اسٹاپ پر فرار ہو جاتے ہیں۔
مذہبی نوعیت کے نفرت انگیز جرائم کی تعداد 20219 اور 2020  میں 343 سے بڑھ کر 2023-24 میں 419 ہو گئی ہے۔
برٹش مسلم ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو عقیلہ احمد نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اُن کہانیوں کی عکاسی کرتے ہیں جو ان کی تنظیم نے ملک بھر کے مسلمانوں سے جمع کی ہیں۔
انہوں نے مقامی حکام، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور کمیونٹی سیفٹی گروپس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور بامعنی اقدامات کریں۔
عقیلہ احمد نے کہا، ’نمایاں طور پر پہچانے جانے والے مسلمانوں کے لیے بس کی اوپری منزل یا آدھی خالی ٹرین کی بوگی دھمکی آمیز رویے، بدسلوکی یا محض اپنے عقیدے کی وجہ سے پرتشدد حملے کا باعث بن سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب بہت سے مسلمان اس خوف سے اپنی ہر حرکت، اندازِ بیان یا اشارے کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر مجبور ہیں کہ کہیں اسے غلط سمجھا نہ جائے، ریکارڈ نہ کر لیا جائے اور ان کے خلاف استعمال نہ کر لیا جائے۔‘
عقیلہ احمد کے مطابق، مسلمانوں کے خلاف جسمانی اور زبانی حملوں کی ایک بڑی تعداد اس واقعات کی ہے جہاں سکول جانے اور واپس آنے والے بچے نشانہ بنتے ہیں ۔ انہوں نے اسے سب سے زیادہ تشویشناک رجحان قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا، ’بسوں اور بہت سے سٹاپس پر سی سی ٹی وی کی کمی کے باعث مجرم اکثر جواب دہی سے بچ نکلتے ہیں۔‘
کولیشن فار ریشل ایکوالٹی کی نائب ڈائریکٹر، کیرول ینگ، نے کہا کہ دی گارڈین کی جانب سے بیان کیے گئے اعداد و شمار شاید اصل مسئلے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنا ہر ایک کے لیے محفوظ محسوس نہیں ہوتا، اور بعض لوگ اس کے استعمال سے گریز کرتے ہیں یا دن کے مخصوص اوقات تک اسے محدود کر دیتے ہیں۔‘
دی گارڈین کی جانب سے تبصرے کی درخواست کے جواب میں، برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’بدسلوکی، دھمکی اور تشدد، خاص طور پر وہ جو نفرت پر مبنی ہو، کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور جب بھی ہمیں ریل نیٹ ورک پر نفرت انگیز جرائم کی رپورٹ ملتی ہے ہم فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہیں۔‘

 

شیئر: