Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

2025 میں سپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہوئے: رپورٹ

یہ گروپ اپنے اعداد و شمار تارکین وطن کے خاندانوں اور بچائے گئے افراد کے سرکاری اعداد و شمار سے مرتب کرتا ہے (فوٹو: روئٹرز)
سپین کے ایک مہاجرین کے حقوق کے گروپ کی رپورٹ کے مطابق رواں برس سپین پہنچنے کی کوشش کے دوران تین ہزار سے زیادہ تارکین وطن ہلاک ہوئے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں 2024 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہوئی ہے کیونکہ سپین پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔
مہاجرین کے حقوق کے گروپ ’واکنگ بارڈرز‘ کے کارکن کامیناندو فرونتیراس نے کہا کہ 15 دسمبر تک ریکارڈ ہونے والی تین ہزار 90 اموات میں سے زیادہ تر افریقہ سے سپین کے کینری جزائر تک اٹلانٹک مہاجرت کے راستے پر ہوئیں، جو دنیا کے سب سے خطرناک راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ کینری جزائر میں تارکین وطن کی آمد میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن ایک نیا، زیادہ دور اور زیادہ خطرناک راستہ ابھر کر سامنے آیا ہے جو گنی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
یہ گروپ اپنے اعداد و شمار تارکین وطن کے خاندانوں اور بچائے گئے افراد کے سرکاری اعداد و شمار سے مرتب کرتا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 437 بچے اور 192 خواتین شامل تھیں۔
کامیناندو فرونتیراس نے یہ بھی کہا کہ الجزائر سے روانہ ہونے والی کشتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بحیرہ روم میں چھٹیوں کے جزائر ایبیزا اور فورمینٹیرا کی طرف۔
روایتی طور پر یہ راستہ الجزائرین استعمال کرتے تھے، لیکن 2025 میں اس راستے پر صومالیہ، سوڈان اور جنوبی سوڈان کے تارکین وطن میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس راستے پر اموات کی تعداد اس سال دوگنی ہو کر ایک ہزار 37 تک پہنچ گئی۔
کامیناندو فرونتیراس کے مطابق کم از کم 10,457 تارکین وطن 2024 میں سپین پہنچنے کی کوشش میں ہلاک یا لاپتہ ہوئے، یہ سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔
سپین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس سال 15 دسمبر تک 35 ہزار 935 تارکین وطن سپین پہنچے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 40 فیصد کمی ہے۔

 

شیئر: