سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر گہری تشویش
سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ شدید موسمی حالات اور انسانی امداد تک رسائی پر پابندیاں شہریوں کی مشکلات میں اضافے کے اہم عوامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ کیمپ، منہدم ڈھانچے، تباہ شدہ خیمے اور سرد موسم کی شدت نے شہری جانوں کو لاحق خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، بالخصوص بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی مسائل کے شکار افراد کے لیے۔
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ غذائی قلت، ناکافی رہائش اور صاف پانی کی کمی کے امتزاج سے وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے غزہ کے پہلے ہی کمزور صحت کے نظام پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کے اداروں، بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا گیا جو انتہائی مشکل حالات کے باوجود امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی امدادی تنظیموں کو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مستقل اور بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ان کے کام میں کسی بھی رکاوٹ کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جامع منصوبے‘ کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، جبکہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے، غزہ میں جنگ کے خاتمے اور ابتدائی بحالی و تعمیرِ نو کے لیے کوششوں میں کردار ادا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل سے، بطور قابض قوت، فوری طور پر ضروری اشیا کی آمد اور تقسیم پر عائد پابندیاں ہٹانے کی اپیل کی، جن میں رہائشی سامان، طبی امداد، ایندھن، صاف پانی اور صفائی و نکاسی آب کی سہولیات شامل ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ میں انسانی امداد کی فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ فراہمی، اہم بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی، اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف کے لیے کھولنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
