ایرانی شہری حملوں سے بچنے کے لیے دیہی علاقوں میں پناہ لینے لگے
تہران اور دیگر شہروں میں گھروں کو ہلا دینے والے دھماکوں سے خوفزدہ ہو کر ہزاروں ایرانی شہری اپنے گھروں کو چھوڑ کر دیہی علاقوں اور چھوٹے دور دراز قصبوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں وہ اسرائیل اور امریکہ کی شدید بمباری کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 22 سالہ پویا اخگری اس وقت اپنے خاندان کے ایک گھر میں اپنی خالاؤں اور کزنز کے ساتھ ایک گاؤں میں مقیم ہیں جو دارالحکومت تہران سے تقریباً 200 کلومیٹر دور واقع ہے۔ صوبہ زنجان کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کے دوران وہ زیادہ تر وقت فلمیں اور ٹی وی پروگرام دیکھ کر گزارتے ہیں اور کبھی کبھار قریبی قصبے تک چلے جاتے ہیں۔
اگرچہ اس گاؤں پر کوئی حملہ نہیں ہوا، مگر تہران میں موجود ان کے دوست انہیں شہر میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں۔
انہوں نے پیغام رسانی کے ایک ایپ کے ذریعے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ 'ہر چیز بہت افراتفری کا شکار محسوس ہو رہی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ بہت جلد ختم ہو جائے گا، مگر یہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اگر اسی طرح جاری رہا تو ہمارے پاس پیسے ختم ہو جائیں گے۔'
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو دنوں میں تقریباً ایک لاکھ افراد تہران سے نکل گئے تھے۔ 97 لاکھ آبادی والے اس شہر سے نقل مکانی کرنے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم بعد کے دنوں یا دیگر شہروں سے نقل مکانی کے اعداد و شمار دستیاب نہیں۔
سٹرابیری فارم پر نسبتاً محفوظ ماحول
39 سالہ ایک خاتون وکیل نے شہر اہواز میں اپنے گھر میں قیامت خیز دھماکوں کا ایک دن برداشت کیا۔ تہران سے تقریباً 800 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع اس شہر میں اگلے دن، 2 مارچ کو، انہوں نے اپنے بھائی، بہن، ان کے اہل خانہ اور اپنے کتوں کوکو اور میگی کے ساتھ گھر چھوڑ دیا۔
وہ اپنے خاندان کے سٹرابیری فارم پر چلی گئی جو کئی گھنٹوں کی مسافت پر ایک چھوٹے قصبے میں واقع ہے۔ انہوں نے ممکنہ انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنا اور قصبے کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔
چونکہ اس قصبے میں کوئی فوجی اڈہ نہیں ہے، اس لیے یہاں نسبتاً تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ تاہم جنوبی ایران کے کچھ علاقوں پر شدید بمباری بھی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق قریبی ایک اور چھوٹے قصبے میں اس وقت دھماکہ ہوا جب پاسدارانِ انقلاب کے ایک اسلحہ ڈپو پر حملہ کیا گیا۔
وہ اس بات پر بھی فکر مند ہیں کہ فارم سے چند سو میٹر کے فاصلے پر موجود ایک جم کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جہاں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آتے جاتے ہیں۔ ایران بھر میں کئی کھیلوں کی تنصیبات پر فضائی حملے ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ جگہ کافی دور ہے، مگر خطرہ پھر بھی موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب کوئی بھی کام پر نہیں جا رہا اور بچے بھی سکول سے دور ہیں۔ وقت گزارنے کے لیے وہ کتے گھماتے ہیں، بورڈ گیمز کھیلتے ہیں اور سٹرابیری چنتے ہیں۔
انہوں نے کہ صبح سے رات تک ہم یہی بات کرتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، ہمیں کن مسائل کا سامنا ہے، ہر چیز روز مہنگی ہو رہی ہے اور ہمارا پیسہ کب تک چلے گا۔
ان کے مطابق اگر یہ صورتحال جاری رہی تو بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے گا۔
بمباری اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان
امریکہ اور اسرائیل کی فوجی مہم نے ایران کی قیادت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی شخصیات ہلاک ہو چکے ہیں۔ حملوں میں خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب اور نیم فوجی تنظیم بسیج کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو اسلامی جمہوریہ کے تحفظ اور حکومت مخالف احتجاج کو کچلنے کے لیے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم حکومتی ڈھانچہ اب بھی برقرار ہے۔ خامنہ ای کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اس ہفتے نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب اور بسیج کے مقامی نیٹ ورک بدستور فعال ہیں۔
ایک شخص نے بتایا کہ تہران سے نکلنے سے پہلے ہونے والے دھماکوں نے ان کے ساڑھے چھ سالہ بیٹے کو خوف سے لرزا دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم ان کو اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان بستر پر لٹا دیتے ہیں تاکہ شاید اسے زیادہ تحفظ کا احساس ہو، مگر پھر بھی وہ نیند میں چیختا رہتا تھا۔
اسی لیے انہوں نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
شہر سے گزرتے ہوئے انہوں نے سڑک کنارے کھڑی کئی گاڑیاں دیکھیں جن کے شیشے دھماکوں سے ٹوٹ چکے تھے۔ تہران کے شمال میں البرز پہاڑوں کے دامن سے گزرتے ہوئے انہوں نے شہر کے مختلف حصوں سے اٹھتا ہوا دھواں بھی دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ 'یہ منظر شہر کو خوفناک بنا رہا تھا۔'