وینزویلا پر امریکی حملہ، لاطینی امریکہ کے کس ملک نے حمایت، کس نے مذمت کی؟
وینزویلا پر امریکی حملہ، لاطینی امریکہ کے کس ملک نے حمایت، کس نے مذمت کی؟
اتوار 4 جنوری 2026 15:24
وینزویلا پر سنیچر کے اوائل میں امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکہ کے ملکوں کے رہنماؤں میں تقسیم نظر آئی۔ بعض نے اس کی مذمت کی جبکہ کچھ نے خوشی کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ حملے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیو یارک منقتل کر دیا گیا ہے جہاں اُن پر امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اگرچہ لاطینی امریکہ کے خطے کا بیشتر حصہ 20ویں صدی کے دوران امریکی مداخلتوں کا دور دہرائے جانے کے باعث محتاط ردعمل ظاہر کر رہا ہے مگر چند ملکوں نے واضح بیانات جاری کیے ہیں۔
اس خطے میں 20ویں صدی کے دوران امریکہ نے چلی سے ہنڈراس تک آمرانہ حکومتیں قائم کرنے میں مدد کی۔ صدر نکولس مادورو کے دورِ حکومت میں وینزویلا کی سماجی اور معاشی تنزلی ہوئی۔ وہ ایک تیزی سے غیرمقبول ہونے والے رہنما بن گئے تھے جن کو خطے میں الگ تھلگ رکھا جا رہا تھا۔
بہت سے لاطینی امریکی ممالک میں حالیہ انتخابات کے دوران زیادہ دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومتیں تشکیل پائیں۔ ان میں سے بہت سے ملکوں کے رہنما یہ سمجھتے تھے کہ امریکہ کی مداخلت اور ڈکٹیٹروں کی حمایت سوشلزم سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق صدر مادورو کی حکومت میں معاشی بدحالی بڑھی اور سنہ 2018 سے اب تک تقریباً 80 لاکھ شہری وینزویلا سے نکلنے پر مجبور ہوئے، جن میں سے 85 فیصد نے لاطینی امریکہ اور کیریبین کے پڑوسی ملکوں میں ہجرت کی۔
خطے کے بہت سے ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران منظم جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ اور وینزویلا کے ٹرین ڈی آراگوا گینگ کا خوف ووٹرز کے ذہنوں پر سوار ہوا جس کے نتیجے میں پڑوسی ملکوں کے سیاست دانوں نے جرائم اور امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دیا۔
ہارورڈ کے ڈیوڈ راکفیلر سنٹر فار لاطینی امریکن سٹڈیز کے پروفیسر اور ڈائریکٹر سٹیون لیوِٹسکی نے کہا کہ اگرچہ چند رہنما مادورو کی معزولی کے بارے میں بہت زیادہ آنسو بہائیں گے لیکن خطے کی حکومتیں سیاسی خطوط پر ردعمل ظاہر کریں گی۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیو یارک منقتل کیا گیا۔ فوٹو: روئٹرز
پروفیسر نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ آپ دائیں بازو کی حکومتوں کو اس کی تعریف کرتے ہوئے دیکھیں گے کیونکہ وہ یہی کرتی ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ بائیں بازو کی حکومتیں امریکی اقدام پر تنقید کریں گی، اور کیسے اس سے پیچھے رہ سکتی ہیں۔‘
کولمبیا، برازیل اور چلی کی حکومتوں کے بیانات
اس حملے کی سخت ترین مذمت ہمسایہ ملک کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو کی طرف سے ایکس پر پوسٹس کے سلسلے میں سامنے آئی۔ وہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنما ہیں جو اکثر امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ زبانی جھڑپ میں رہے ہیں اور انہیں امریکی صدر نے دھمکیاں بھی دی ہیں۔
صدر پیٹرو نے لکھا کہ ’کولمبیا کی حکومت وینزویلا اور لاطینی امریکہ کی خودمختاری کے خلاف جارحیت کو مسترد کرتی ہے۔‘
صدر پیٹرو کے برازیلین ہم منصب لولا ڈا سلوا نے کہا کہ ’وینزویلا پر بمباری اور اس کے صدر کو پکڑنا ایک لائن کو عبور کرنا ہے جو ناقابلِ قبول ہے۔‘
چلی کے سبکدوش ہونے والے صدر گبریل بورس نے وینزویلا پر حملے کی مذمت کی جبکہ نومنتخب صدر جوس انتونیو کسٹ نے اپنی ایکس پوسٹ میں اس کو خطے کے لیے بڑی اچھی خبر قرار دیا ہے۔
ارجنٹینا اور ایکواڈور نے وینزویلا پر امریکی حملے کی حمایت کی ہے۔ فوٹو: روئٹرز
میکسیکو، ارجنٹینا اور ایکواڈور کے رہنماؤں کا ردعمل
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبم نے وینزویلا میں امریکی مداخلت کی مذمت کی۔
ارجنٹینا اور ایکواڈور نے وینزویلا پر امریکی حملے کی حمایت کی ہے۔
ارجنٹینا کے صدر ہاویئر میلی امریکی صدر ٹرمپ کے اس خطے میں اتحادی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے وینزویلا کے صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔
صدر مادورو کی حراست اور وینزویلا پر امریکی حملے کی حمایت اور مخالفت میں لاطینی امریکہ کے متعدد بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں بھی ہزاروں افراد نے ریلیاں نکالیں۔