Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مستعفی ہونے کے مطالبات، برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کی سیاسی بقا کی جنگ

یونیورسٹی کے بعد، کیئر سٹارمر نے انسانی حقوق کے وکیل اور چیف سرکاری پراسیکیوٹر کے طور پر ایک کامیاب کیریئر بنایا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے رہنما کیئر اسٹارمر اقتدار میں اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے کہ وہ برطانوی سیاست میں برسوں سے جاری افراتفری کا خاتمہ کریں گے، لیکن متعدد پالیسی ایشوز پر یوٹرنز، تنازعات اور انتہائی کم عوامی مقبولیت نے انہیں ایک نازک سیاسی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 5  جولائی 2024 کو وزیرِ اعظم کے طور پر اپنی پہلی تقریر میں، سٹارمر نے ’خدمت‘ پر مبنی حکومت کا وعدہ کیا تھا جو 14 سالہ کنزرویٹو حکومت کے بعد عوامی زندگی میں کم مداخلت کرے گی۔
انہوں نے اپنے نسبتاً محتاط اندازِ حکمرانی کو ایک خوبی کے طور پر پیش کیا اور سابق کنزرویٹو وزرائے اعظم بورس جانسن اور لیز ٹروس  کی نظریاتی اور جذباتی سیاست کے مقابلے میں خود کو ایک عملی منتظم کے طور پر پیش کیا۔
صحافی پیٹرک میگوائر اور گیبریل پروگرنڈ کی لکھی گئی کتاب "Get In" کے مطابق، سٹارمر نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا ’ سٹارمر ازم جیسی کوئی چیز نہیں ہے، اور نہ کبھی ہوگی۔‘
تاہم، ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہونے کے فوراً بعد وہ خود کو اتنا قابلِ اعتماد ثابت نہ کر سکے جتنا انہوں نے دعویٰ کیا تھا، جبکہ نظریاتی سمت اور کرشمے کی کمی کے باعث وہ عوام کو یہ سمجھانے میں بھی مشکلات کا شکار رہے کہ وہ ملک کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔
پیر کے روز انہوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنے مخالفین کو غلط ثابت کریں گے، اور وعدہ کیا کہ ان کی حکمران لیبر پارٹی مزید بہتر اور جرات مندانہ انداز اپنائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب لیبر پارٹی کے تقریباً 400 اراکینِ پارلیمنٹ میں سے بعض کی جانب سے ان سے استعفیٰ دینے یا قیادت کے چیلنج کا سامنا کرنے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔

کامیاب کیریئر

کیئر سٹارمر 2 ستمبر 1962 کو پیدا ہوئے۔ وہ لندن کے مضافات میں ایک چھوٹے سے نیم علیحدہ گھر میں پلے بڑھے۔ ان کی والدہ شدید بیمار رہتی تھیں جبکہ والد جذباتی طور پر کچھ فاصلے پر رہنے والے انسان تھے جو جانوروں سے محبت کرتے تھے۔

ابتدائی مہینوں میں مفت تحائف کے تنازعے نے بھی سٹارمر حکومت کو گھیرے رکھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

یونیورسٹی کے بعد، کیئر سٹارمر نے انسانی حقوق کے وکیل اور چیف سرکاری پراسیکیوٹر کے طور پر ایک کامیاب کیریئر بنایا، جس کے نتیجے میں انہیں نائٹ کا خطاب ملا۔
وہ بانسری بجانے اور فٹ بال کلب آرسنل کے مداح ہیں۔ 2015 میں وہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور پانچ سال بعد بائیں بازو کے رہنما جیرمی کاربن کی جگہ لیبر پارٹی کے سربراہ بنے، جب پارٹی کو 1935 کے بعد اپنی بدترین انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انہوں نے اپنی سخت گیر قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوربن کو پارٹی سے الگ کیا، یہود دشمنی کے خلاف کارروائی کی اور پارٹی کو دوبارہ سیاسی مرکز کی طرف لائے، جس کے نتیجے میں لیبر کو دو دہائیوں سے زائد عرصے کی سب سے بڑی انتخابی کامیابی ملی۔
برطانیہ کے رہنما بننے کے بعد، سٹارمر نے سست معاشی ترقی، مہنگائی کے بحران اور کنزرویٹو کفایت شعاری پالیسیوں سے متاثر عوامی خدمات کے بعد برطانیہ کو ’ٹھیک‘ کرنے کا وعدہ کیا۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ بحالی کا راستہ ’طویل اور مشکل‘ ہوگا۔

مشکلات

ان کی وزارتِ عظمیٰ کا آغاز اس وقت خراب ہوا جب حکومت نے ایک انتہائی غیر مقبول پالیسی کے تحت لاکھوں بزرگ افراد سے موسمِ سرما کے ایندھن کی ادائیگیاں واپس لینے کا اعلان کیا، حالانکہ یہ لیبر کے انتخابی منشور میں شامل نہیں تھا۔ بعد میں انہیں اس فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
سٹارمر کو فلاحی مراعات میں اصلاحات پر بھی شرمندہ کن پسپائی اختیار کرنا پڑی، کسانوں کے ساتھ وراثتی ٹیکس کے معاملے پر جھکنا پڑا، جبکہ کاروباری طبقہ تنخواہوں پر ٹیکس اور کم از کم اجرت بڑھانے پر ناراض ہوا۔

ایک  سروے کے مطابق، سٹارمر کی مقبولیت صرف 19 فیصد رہ گئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ابتدائی مہینوں میں مفت تحائف کے تنازعے نے بھی حکومت کو گھیرے رکھا۔
اسی مہینے، سٹارمر نے پیٹر منڈلسن کو واشنگٹن میں سفیر کے عہدے سے برطرف کر دیا کیونکہ ان کی دوستی امریکی جنسی مجرم جیفری اپسٹین  سے بہت گہری سمجھی جا رہی تھی۔
اس تقرری، جس پر سٹارمر معافی مانگ چکے ہیں، کے نتیجے میں ان کے دو قریبی معاونین اور دفترِ خارجہ کے سب سے سینئر سرکاری افسر نے بھی عہدے چھوڑ دیے۔
اگرچہ سٹارمر نے خود استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے، لیکن یہ اسکینڈل اب بھی ان کا پیچھا کر رہا ہے، اور گزشتہ ہفتے لیبر کی مقامی انتخابات میں شرمناک کارکردگی نے ان کی برطرفی کے مطالبات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ریفارم پارٹی کا خطرہ

اگرچہ سٹارمر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے خلاف ایران جنگ کے معاملے پر مضبوط موقف اپنانے اور یوکرین کے لیے یورپی حمایت برقرار رکھنے پر سراہا گیا، لیکن وہ اندرونِ ملک سخت دائیں بازو کی جماعت  ریفارم پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
ایک  سروے کے مطابق، سٹارمر کی مقبولیت صرف 19 فیصد رہ گئی ہے، جو کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کے لیے انتہائی کم شرح شمار ہوتی ہے۔
پیر کے روز اسٹارمر نے وعدہ کیا کہ وہ قیادت چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ان کے مطابق وہ برطانیہ کی ’روح کی جنگ‘ لڑ رہے ہیں، اور اگر لیبر ناکام ہوئی تو ملک ’ایک بہت تاریک راستے‘ پر چلا جائے گا۔

شیئر: