Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فوجی حملہ اور مادورو کی گرفتاری: امریکہ وینزویلا کو ’چلائے گا‘، صدر ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو ’چلائے گا‘ اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھائے گا، جبکہ بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکس پر بمباری کے دوران ملک سے گرفتار کر کے باہر نکال لیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کا سنیچر کو یہ اعلان اس تیز رفتار کارروائی کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں امریکی خصوصی فورسز نے مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا، جبکہ فضائی حملوں میں کراکس کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے دارالحکومت میں کھلبلی مچ گئی۔
فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ’ہم ایک گروہ کے ساتھ مل کر اسے چلائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم لوگوں کو نامزد کر رہے ہیں۔‘ اور اشارہ دیا کہ ان کے ساتھ موجود کابینہ کے ارکان اس عمل کی نگرانی کریں گے۔
ایک اور حیران کن بیان میں صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وینزویلا میں امریکی فوج تعینات کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ’زمین پر فوج اتارنے سے خوفزدہ نہیں ہے۔‘
اگرچہ اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ حکومت کی تبدیلی اور وینزویلا کے تیل کے وسائل اس کے بنیادی اہداف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری بہت بڑی امریکی تیل کمپنیاں، جو دنیا کی سب سے بڑی ہیں، وہاں جائیں گی، اربوں ڈالر خرچ کریں گی اور بوسیدہ انفرااسٹرکچر کو درست کریں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بڑی مقدار میں تیل فروخت کریں گے۔‘
79 سالہ ریپبلکن صدر نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں مادورو کو ایک امریکی بحری جہاز پر حراست میں دکھایا گیا ہے، ان کی آنکھوں پر پٹی، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور کانوں پر ہیڈ فون نما آلات تھے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کی اپوزیشن رہنما پر تنقید

امریکا کی حمایت یافتہ اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو، جنہیں گذشتہ برس نوبیل امن انعام ملا تھا، نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’آزادی کی گھڑی آ پہنچی ہے۔‘
انہوں نے سنہ 2024 کے انتخابات میں اپوزیشن کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز اُروتیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ’فوری طور پر‘ صدارت سنبھالیں۔
تاہم ٹرمپ نے ماچاڈو کے نئے رہنما بننے کی کسی بھی توقع کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں وینزویلا میں ’نہ حمایت حاصل ہے اور نہ احترام۔‘

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں نکولس مادورو کو ایک امریکی بحری جہاز پر حراست میں دکھایا گیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ مادورو کی نائب ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ’وہ بنیادی طور پر وہی کرنے پر آمادہ ہیں جو ہمیں وینزویلا کو دوبارہ عظیم بنانے کے لیے ضروری لگتا ہے۔‘
ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کی موجودگی عارضی نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم وہاں موجود ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک مناسب انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ وہ ’اس بات پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا احترام نہیں کیا گیا۔‘
مادورو کی سخت گیر بائیں بازو کی حکومت کے حامی ملک چین نے امریکی حملے کی ’سخت مذمت‘ کی، جبکہ فرانس نے خبردار کیا کہ وینزویلا کے بحران کا حل ’باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔‘

بمباری

وینزویلا کے شہری حملوں کے خدشے کے پیش نظر پہلے ہی تیار تھے، کیونکہ امریکی افواج، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی شامل تھا، کئی ماہ سے ساحل کے قریب موجود تھیں۔
کراکس کے رہائشیوں کے مطابق رات تقریباً دو بجے (0600 جی ایم ٹی) دھماکوں اور فوجی ہیلی کاپٹروں کی آوازوں سے آنکھ کھلی۔ اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق فضائی حملوں میں ایک بڑے فوجی اڈے اور ایک ایئربیس سمیت متعدد مقامات کو تقریباً ایک گھنٹے تک نشانہ بنایا گیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم وہاں موجود ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک مناسب انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

یہ بمباری اس بڑے منصوبے کا حصہ تھی، جس کا مقصد مادورو کی حکومت کا خاتمہ اور انہیں منشیات سمگلنگ کے الزامات کے تحت امریکہ منتقل کرنا تھا۔
امریکی فوج کے ایک اعلیٰ افسر جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس آپریشن میں 150 طیاروں نے حصہ لیا، جبکہ مہینوں پر محیط خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دستے اتارے گئے۔ انٹیلیجنس میں وینزویلا کے رہنما کی روزمرہ عادات تک شامل تھیں، حتیٰ کہ ’وہ کیا کھاتے تھے‘ اور کون سے پالتو جانور رکھتے تھے۔
63 سالہ مادورو اور ان کی اہلیہ نے ’بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے‘ اور اس کارروائی میں ’کسی امریکی اہلکار کی جان نہیں گئی۔‘

شیئر: