Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کے قریبی معاون کی اہلیہ کی پوسٹ پر ڈنمارک ناراض کیوں ہوا؟

گرین لینڈ کے معاملے میں امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ ڈنمارک کے اس علاقے کو امریکہ کا حصہ بنانا امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ڈنمارک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے بااثر معاون کی اہلیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر گرین لینڈ کی امریکی پرچم کے رنگوں میں رنگی تصویر شیئر کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کیٹی ملر جو ٹرمپ کے نائب چیف آف سٹاف سٹیفن ملر کی اہلیہ ہیں، نے سنیچر کو ڈنمارک کے خودمختار علاقے کی یہ متنازع طور پر تبدیل شدہ تصویر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی۔ یہ پوسٹ وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے بعد سامنے آئی۔
تصویر کے اوپر ایک ہی لفظ درج تھا: ’جلد۔‘
ڈنمارک کے امریکہ میں سفیر یسپر مولر سورینسن نے اتوار کو اپنی ایک پوسٹ کے ذریعے ردِعمل دیا اور کہا کہ ہم ڈنمارک کی ’علاقائی سالمیت کے مکمل احترام‘ کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کیٹی ملر کی پوسٹ کردہ تصویر کا لنک بھی شامل کیا۔
صدر ٹرمپ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کو امریکہ کا ضم شدہ حصہ بنانا چاہتے ہیں۔
اس مقصد کی جانب بڑھنے والے ان کی حکومت کے اقدامات، جن میں ڈنمارک کے اس علاقے کے لیے ایک امریکی ایلچی کی تقرری بھی شامل ہے، نے کوپن ہیگن اور یورپی یونین دونوں کی ناراضی کو جنم دیا ہے۔
سٹیفن ملر کو ٹرمپ کی پالیسیوں کا اہم معمار سمجھا جاتا ہے، جو سخت گیر امیگریشن پالیسیوں اور اندرونی ایجنڈے پر صدر کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔
امریکہ کے یورپی اتحادی اس وقت بھی پریشان ہو گئے جب ٹرمپ نے سنیچر کو اپنی فوج کو کاراکس پر حملے اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا۔ مادورو اس وقت نیویارک میں امریکی حکام کی تحویل میں ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اب غیرمعینہ مدت تک وینزویلا کو ’چلائے گا‘ اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھائے گا۔

گرین لینڈ کے معاملے میں امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ ڈنمارک کے اس علاقے کو امریکہ کا حصہ بنانا امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے، کیونکہ یہ آرکٹک میں ایک سٹریٹجک مقام پر واقع ہے۔ گرین لینڈ میں وہ اہم معدنیات بھی موجود ہیں جو ہائی ٹیک صنعتوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
ڈنمارک کے سفیر نے کیٹی ملر کی پوسٹ کے جواب میں ایک معنی خیز ’دوستانہ یاددہانی‘ کراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک، جو نیٹو کا رکن ہے، نے ’آرکٹک میں اپنی سکیورٹی کوششوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے‘ اور اس ضمن میں امریکہ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔
سورینسن نے لکھا کہ ’ہم قریبی اتحادی ہیں اور ہمیں اسی طرح مل کر کام کرتے رہنا چاہیے۔‘

وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف سٹیفن ملر اپنی اہلیہ کیٹی ملر کے ساتھ 48ویں کینیڈی سینٹر آنرز گالا میں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

کیٹی ملر، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں محکمہ داخلی سلامتی میں نائب پریس سیکریٹری رہ چکی ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے اُس وقت کے نائب صدر مائیک پینس کے لیے کمیونیکیشن ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا اور ان کی پریس سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔

 

شیئر: