Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انجینئرنگ سمیت کئی اہم شعبوں میں سعودائزیشن کی شرح میں اضافے کا اعلان

انجیئرنگ میں سعودیوں کی کی کم از کم تنخواہ 8 ہزار ریال ہونی چاہیے۔ ( فوٹو ایس پی اے)
سعودی وزارت افرادی قوت نے انجینئرنگ اور پروکیورمنٹ کے شعبوں میں سعودائزیشن کے تناسب میں اضافہ کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق مملکت کے مختلف علاقوں میں سعودی شہریوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے وزارت بلدیات و ہاوسنگ کے تعاون سے انجینئرنگ کے شعبوں میں 30 فیصد تک سعودی شہریوں کو روزگار فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
وزارت کا کہنا تھا’ ایسے انجینئرنگ کے ادارے جہاں ملازمین کی تعداد پانچ یا اس سے زائد ہے ان میں 30 فیصد سعودی مرد وخواتین کو روزگار فراہم کیا جائے جن کی کم از کم تنخواہ 8 ہزار ریال ہونی چاہیے۔‘
 نجی اورغیرمنافع بخش اداروں پر سعودائزیشن کا فیصلہ 31 دسبمر 2025  سے کیا گیا ہے تاہم عمل درآمد کے لیے وزارت نے چھ ماہ کی مہلت کا بھی اعلان کیا  تاکہ اس عرصے میں مطلوبہ تناسب سے سعودی کارکنوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے۔
وزارت کی جانب سے جن 46 شعبوں میں سعودائزیشن کا فیصلہ کیا گیا ان میں اہم ترین سول انجیئنر، توانائی کے شعبے، انڈسٹریل انجینئرنگ، الیکٹرانکس، میرین انجینئرنگ، ہیلتھ انجینئنر ودیگر شامل ہیں۔
مارکیٹنگ کے شعبوں میں جہاں کام کرنے والے غیرملکیوں کی تعداد 3 یا اس سے  زیادہ ہے ان میں سعودائزیشن کا تناسب 70 فیصد متعین کیا گیا ہے۔

سعودائزیشن پر عمل درآمد کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے (فوٹو: عرب نیوز)

پروکیورمنٹ کے شعبے میں 12 پروفیشن جن میں ڈائریکٹرپرچیز، خریداری کا نمائندہ، ڈائریکٹر ایگریمنٹس، سٹور کیپر، لاجسٹک ڈائریکٹر، سٹور انچارج، ڈیجیٹل مارکیٹنگ سپیشلسٹ، مارکیٹنگ ریسرچ سپیشلسٹ، سٹور سپیشلسٹ وغیرہ شامل ہیں۔
ان شعبوں میں بھی سعودائزیشن پر عمل درآمد کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران مطلوبہ تناسب سے سعودی اہلکاروں کو روزگار فراہم کرنا ضروری ہوگا تاکہ کسی قسم کی خلاف ورزی ریکارڈ ہونے سے بچا جاسکے۔
وزارت کا کہنا تھا ’ان شعبوں میں مارکیٹ کی طلب اور ریسرچ کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ سعودی مرد وخواتین کو روزگار کے بہتر مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔‘

 

 

شیئر: