Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ’مجالس‘ جہاں مہمان نوازی کے ساتھ سماجی مسائل حل ہوتے ہیں

مجلسوں کا انعقاد سعودی معاشرے کا ورثہ ہے جو آج بھی موجود ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی معاشرے میں ’دیوانیات‘ اور ’مجالس‘ کا تصور آج کے دور میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
یہ سماجی رابطے اور ملاقاتوں کے حوالے سے انتہائی اہم مقام ہوتا ہے جہاں مہمانوں سے ملاقات، مسافروں کی دیکھ بھال اور قاہل علاقہ سے روابط  و ہم آہنگی میں اضافہ کیا جاتا تھا۔
مجلسوں کا انعقاد سعودی معاشرے کا ورثہ ہے جس کی عمدہ مثالیں آج بھی دکھائی دیتی ہے۔ قصیم ریجن میں ان مجلسوں کا رواج اسی طرح ہے جیسا عہدِ رفتہ میں ہوا کرتی تھیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق قصیم ریجن ماضی سے مہمان نوازی کےحوالے سے غیرمعمولی شہرت رکھتا ہے۔
 مجالس کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہوتے ہیں جہاں سعودی قہوہ کا دور چلتا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

قصیم میں ’خب روضان‘ ان اہم کھلی مجلسوں میں سے ایک ہے جو اہل علاقہ اور راہگیروں کےلیے مخصوص ہے۔
یہاں آج بھی روزانہ کی بنیاد پر علاقے کے لوگ جمع ہوتے ہیں، مختلف موضوعات و حالات حاضرہ پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ سماجی مسائل کا حل بھی مل کرتلاش کیا جاتا ہے۔

’خب روضان‘ میں آنے والے علاقے کے لوگوں کا کہنا تھا’ یہ مجلس سماجی اصلاح اور تعمیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں ہرعمر و مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اکھٹے ہوتے ہیں اور باہمی احترام و آداب کو برقرار رکھتے ہوئے مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔‘
قصیم ریجن میں کھلی مجالس کا رواج ماضی سے چلا آرہا ہے جو آج بھی اسی طرح قائم ہے جیسے آباءاجداد کے دور میں ہوتا تھا۔ ان بیٹھکوں کے مثبت اثرات معاشرے پر بھی پڑتے ہیں۔

 

شیئر: