Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کئی تہذیبوں کا گواہ جزیرہ ’عثر‘ جہاں چین اور انڈیا سے جہاز لنگرانداز ہوتے

جازان ریجن کی کمشنری صبیا کے مرکز قوز الجعافرہ کی ساحلی پٹی پر واقع جزیرہ ’عثر‘ جو تیزی سے پروان چڑھنے اور معدوم ہونے والی کئی تہذیبوں کا گواہ رہا ہے مگر اب وہاں صرف آثار ہی باقی ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اس جزیرے کے قریب بحیرۂ احمر کے پانیوں تک پھیلا ہوا عثر نامی تاریخی گاؤں بھی واقع ہے جسے ’راس الطرفہ‘ کہا جاتا ہے۔
یہ گاؤں صبیا شہر سے 16 کلومیٹر مغرب جبکہ جیزان شہر سے 40 کلو میٹر شمال مغربی سمت میں ہے، اس کی تاریخ اسلام کے ابتدائی دور کی ہے۔
تاریخی حوالوں کے مطابق ماضی میں ’عثر‘ تجارت کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل مقام تھا، یہاں کی بندرگاہ مصروف ترین شمار ہوتی تھی۔
ماضی میں اسے جزیرہ العربیہ کے جنوب کی بڑی منڈی اور دو تہذیبوں کے سنگم کا درجہ حاصل تھا۔

یہاں انڈیا اور چین جبکہ دوسری سمت سے مصر اور شام کے تجارتی جہاز لنگرانداز ہوا کرتے تھے، اس کے علاوہ افریقی ساحلوں سے بھی اس مقام کا رابطہ تھا۔
عہدِ رفتہ میں جس چیز کی وجہ سے اس علاقے کی معاشی اہمیت میں اضافہ ہوا وہ یہاں موجود ٹکسال تھا جو’العثری دینار‘ کے نام سے جانا جاتا تھا جو چوتھی صدی ہجری میں رائج تھا۔
آج اس علاقے کی ٹکسال میں تیار ہونے والا ایک دینار مدینہ منورہ کے میوزیم میں جبکہ دوسرا قطر کے میوزیم میں موجود ہے۔

اس کے علاوہ ایک ٹکرا پیرس کی نیشنل لائبریری اور پانچ ٹکرے سعودی مرکزی بینک میں ہیں۔
ماضی کے اس اہم مقام کی چند باقیات ہی موجود ہیں جن میں مٹی اور پتھروں کے برتنوں کے علاوہ شیشے کے ٹکرے اور دھات کے نمونے شامل ہیں۔
دورِ رفتہ میں دو تہذیبوں کے سنگم سے شہرت پانے والے اس مقام کا مجموعی رقبہ 16 لاکھ 11 ہزار 773 مربع میٹر ہے جو آج جازان ریجن میں سیاحتی سرمایہ کاری کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔

جزیرہ اپنے قدرتی ساحرانہ حسن کی وجہ سے آج بھی تفریح کے شوقین افراد میں معروف ہے۔
یہاں کے گھنے جنگلات مینگرو کے درختوں سے بھرے پڑے ہیں جو ایک طرح سے باڑ کا کام بھی کرتے ہیں۔

ٹورگائیڈ عبدہ الجعفری کا کہنا ہے ’یہ مقام قدرت کا حسین شاہکار ہے، جسے سمندر کے نیلے پانیوں کی بلند و بالا موجوں نے مزید دلکش بنا دیا ہے۔‘
یہاں کی کھلی ہوا میں سانس لینے سے تازگی و فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ ساحل کی نرم ریت پر پڑنے والی سورج کی کرنوں کا نظارہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

 

شیئر: