مہنگائی کے خلاف مظاہرے، ایران کا شہریوں کو ماہانہ الاؤنس دینے کا اعلان
ایران میں مہنگائی کے خلاف ایک ہفتے سے احتجاج جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی حکومت نے مہنگائی کے خلاف ہفتہ بھر سے جاری احتجاج کے بعد شہریوں کو معاشی دباؤ سے نکالنے کے لیے ماہانہ الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مھاجرانی نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا کہ ’شہری ہر ماہ 10 لاکھ تومان (تقریباً سات ڈالر) کے برابر رقم وصول کر سکتے ہیں جو چار ماہ کے لیے ان کے اکاؤنٹس میں ڈالی جا رہی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ رقم ہر ایرانی شہری کو دی جائے گی جس سے وہ ضرورت کا سامان خرید سکتے ہیں اور اس اقدام کا مقصد لوگوں پر سے معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے۔‘
تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک ایران میں کم سے کم تنخواہ بمشکل 100 ڈالر (85 یورو) اور اوسط ماہانہ تنخواہ 200 ڈالر کے قریب ہے۔
ایران میں زیادہ تر لوگ اشیا کی خریداری کے لیے نقد ادائیگی کے بجائے موبائل فون اور ڈیبٹ کارڈز کا استعمال کرتے ہیں۔
جوہری پروگرام کے باعث تہران کی معیشت امریکہ اور دوسرے ممالک کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے دوچار ہے اور دسمبر میں وہاں مہنگائی کی شرح 52 فیصد تک بڑھی۔
پچھلے برس کے دوران ایرانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی حد تک اپنی قدر کھو چکی ہے جس کے باعث لوگوں کی قوت خرید میں بہت کمی آئی ہے اور ملک کے طول و عرض میں بے چینی کی لہر پائی جاتی ہے۔
ملک میں معیشت کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شروع ہونے والے مظاہرے اتوار کو آٹھویں روز میں داخل ہوئے تھے۔
سرکاری اعلانات اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق مظاہروں کا دائرہ ملک کے کم سے کم 40 شہروں تک پھیلا جو مختلف نوعیت کے تھے، ان میں سے زیادہ تر مغربی علاقوں میں ہوئے اور درمیانے درجے کے رہے۔
مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات بھی سامنے آئے اور سرکاری رپورٹس کے مطابق اب تک کم سے کم 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
