ٹی20 ورلڈ کپ: کیا انڈیا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے؟
ٹی20 ورلڈ کپ: کیا انڈیا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے؟
پیر 23 فروری 2026 17:12
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
جنوبی افریقہ کے سامنے انڈیا کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
ٹی20 ورلڈ کپ کے دفاعی چیمپیئن انڈیا کو سپر ایٹ مرحلے میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد سیمی فائنل تک رسائی کے لیے دو بڑی کامیابیوں کی اشد ضرورت پڑ گئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق انڈیا کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹن ڈوشیٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ٹیم نے ’بڑے پیمانے پر غلطی‘ کی ہے اور اب واپسی کے لیے غیر معمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔
اتوار کو احمد آباد کے نریندرا مودی سٹیڈیم میں 80 ہزار تماشائیوں کے سامنے انڈیا کو 76 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
188 رنز کے تعاقب میں انڈیا کی ٹیم 18.5 اوورز میں 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور یوں ٹی20 ورلڈ کپ میں اس کی 12 میچوں کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ رک گیا۔
اس شکست کے بعد انڈیا کا نیٹ رن ریٹ منفی 3.8 تک گر گیا ہے، جس کے باعث اب سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اسے اپنے باقی دونوں میچ واضح مارجن سے جیتنا ہوں گے، بصورت دیگر دوسری ٹیموں کے نتائج پر انحصار کرنا پڑے گا۔
ریان ٹن ڈوشیٹ نے کہا ہے کہ ’جب آپ ورلڈ کپ جیتنے نکلتے ہیں تو کوئی آپ کو آدھے راستے میں کامیابی لا کر نہیں دیتا۔‘ ان کے بقول ’ٹیم نے بڑے پیمانے پر غلطیاں کیں اور اب کھلاڑیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دو مضبوط کارکردگیوں کے ذریعے صورتحال کو سنبھالیں۔‘
سپر ایٹ مرحلے میں انڈیا کا گروپ جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے پر مشتمل ہے جہاں ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔ انڈیا کا اگلا مقابلہ جمعرات کو چنئی میں زمبابوے کے ساتھ، جس نے اس سے قبل آسٹریلیا اور سری لنکا کو شکست دے کر سب کو چونکا دیا ہے۔
اسی روز احمد آباد میں جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز مدمقابل ہوں گے، جہاں ایک اور کامیابی جنوبی افریقہ کو سیمی فائنل کے قریب پہنچا سکتی ہے۔
انڈیا کی بیٹنگ لائن ایک مرتبہ پھر دباؤ میں آ کر بکھر گئی۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیندباز مارکو یانسن نے 3.5 اوورز میں چار وکٹیں لے کر انڈیا کے ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کر دیا، جبکہ کیشو مہاراج نے سپن کے جادو سے تین شکار کیے۔ پاور پلے میں انڈیا 31 رنز پر تین وکٹیں گنوا چکا تھا اور چند ہی گیندوں بعد سکور 51 رنز پر پانچ آؤٹ ہو گیا۔
انڈین میڈیا نے بھی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین میڈیا نے بھی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’وہ رات جب نقاب اتر گیا‘ اور ’لاپروا انڈیا واپسی کے مقام سے آگے نکل گیا‘ جیسی سرخیاں منظر عام پر آئیں۔
اوپنرز ایشان کشن اور ابھشیک شرما ایک بار پھر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، جس سے مڈل آرڈر پر غیر ضروری دباؤ پڑا۔ کوچنگ سٹاف نے عندیہ دیا ہے کہ بیٹنگ لائن اپ میں تبدیلیوں پر غور کیا جا سکتا ہے، جس میں ٹاپ آرڈر میں کسی دائیں ہاتھ کے بیٹر کو شامل کرنے کا آپشن بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے۔
کپتان سوریہ کمار یادیو نے بھی اعتراف کیا کہ 180 سے زائد ہدف کے تعاقب میں پاور پلے میں میچ جیتا نہیں جا سکتا، مگر ہارا ضرور جا سکتا ہے اور انڈیا نے ابتدائی چھ اوورز میں بہت زیادہ وکٹیں گنوائیں۔
اعداد و شمار بھی انڈیا کے خلاف جا رہے ہیں۔ ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں آج تک کوئی ٹیم اپنے ٹائٹل کا دفاع نہیں کر سکی، جبکہ کسی بھی ٹیم نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر یہ ٹورنامنٹ نہیں جیتا۔ ایسے میں دفاعی چیمپیئن انڈیا کو نہ صرف حریفوں بلکہ تاریخ کے رجحان سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔