گوادر: معدومی کے خطرے سے دوچار نایاب مچھلی ’بوہیڈ گٹار فش‘ جال میں پھنس گئی
گوادر: معدومی کے خطرے سے دوچار نایاب مچھلی ’بوہیڈ گٹار فش‘ جال میں پھنس گئی
پیر 23 فروری 2026 17:23
اس مچھلی کی بین الاقوامی تجارت پر پابندی ہے کیونکہ اس کی نسل کے مکمل خاتمے کا شدید خدشہ موجود ہے (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی مشرقی خلیج (ایسٹ بے) سے ایک ایسی نایاب مچھلی پکڑی گئی ہے جس کی نسل دنیا بھر میں تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور اسے بین الاقوامی طور پر ’شدید خطرے‘ میں گھری اقسام کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔
ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ 22 فروری 2026 کو گوادر کے ساحل سے تقریباً 30 میٹر کی گہرائی میں مچھیروں کے جال میں ’بوہیڈ گٹار فش‘ نامی مچھلی آئی جسے مقامی زبان میں ’کوہ برادری‘ یا ’بھتھ کھیر‘ کہا جاتا ہے۔
پکڑی جانے والی مچھلی کی لمبائی 140 سینٹی میٹر (تقریباً ساڑھے چار فٹ) ہے جبکہ اس کا وزن 65 کلوگرام سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سائنسی طور پر ’رائنا اینسائلوسٹومس‘ کہلانے والی یہ مچھلی اپنی مخصوص ساخت اور سر کی بناوٹ کی وجہ سے سمندری حیات میں الگ پہچان رکھتی ہے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے اس مچھلی کو اپنی ’ریڈ لسٹ‘ میں انتہائی خطرے سے دوچار قرار دے رکھا ہے۔
ماہرینِ سمندری حیات کے مطابق گزشتہ 45 برسوں میں بے دریغ شکار اور تجارتی مقاصد کے لیے پکڑے جانے کے باعث اس مچھلی کی عالمی آبادی میں 80 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔
بین الاقوامی معاہدے ’سائٹس‘کے ضمیمہ دوم میں شامل ہونے کی وجہ سے اس مچھلی کی بین الاقوامی تجارت پر پابندی ہے کیونکہ اس کی نسل کے مکمل خاتمے کا شدید خدشہ موجود ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان میں یہ مچھلی پورا سال پکڑی جاتی رہی ہے، خاص طور پر جنوری سے مارچ اور مئی سے ستمبر کے مہینوں میں اس کی دستیابی زیادہ ہوتی تھی۔
ایک بالغ ’کوہ برادری‘ 3 میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے لیکن ان کی افزائشِ نسل کی رفتار انتہائی سست ہے (فائل فوٹو: ڈبلیو ڈبلیو ایف)
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران پاکستان کے ساحلوں پر اس کے پکڑے جانے کی شرح میں غیر معمولی کمی آئی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہاں بھی اس کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
یہ مچھلی عام طور پر 400 میٹر سے کم گہرائی والے گرم سمندروں میں پائی جاتی ہے اور اس کا پھیلاؤ مشرقی افریقہ، بحیرہ احمر، خلیج فارس سے لے کر جاپان اور آسٹریلیا تک ہے۔
ایک بالغ ’کوہ برادری‘ 3 میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے لیکن ان کی افزائشِ نسل کی رفتار انتہائی سست ہے۔ ایک مادہ مچھلی ایک وقت میں صرف 2 سے 11 بچے پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ نسل انسانی شکار کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
پاکستان میں ڈبلیو ڈبلیو ایف سال 2013 سے ماہی گیروں کے ساتھ مل کر آگاہی مہم چلا رہا ہے تاکہ اگر ایسی نایاب مچھلیاں جال میں پھنس جائیں تو انہیں بحفاظت دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا جائے۔