’میں ضرور جاؤں گا‘، تعلقات میں بہتری کے بعد پاکستان میں مقیم بنگالیوں کی گھر واپسی کی امیدیں
’میں ضرور جاؤں گا‘، تعلقات میں بہتری کے بعد پاکستان میں مقیم بنگالیوں کی گھر واپسی کی امیدیں
پیر 23 فروری 2026 16:26
براہِ راست پروازیں بحال ہو گئی ہیں اور شاہ عالم کی امیدیں پھر سے جاگ اٹھی ہیں (فوٹو: اے ایف پی
کراچی کے ایک مصروف بنگالی بازار کے کنارے 60 سالہ شاہ عالم خشک مچھلی بیچ کر اپنی روزی کماتے ہیں۔ کبھی وہ صرف چند ہفتوں کے لیے اپنے گھر بنگلہ دیش سے پاکستان آئے تھے، مگر پھر حالات نے ایسی پلٹی ماری کہ وہ تقریباً تیس سال سے یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی کشیدگی، اور شاہ عالم کی مالی مشکلات نے انہیں کراچی میں ایسا روکا کہ وہ نہ واپس جا سکے، نہ ہی اپنے پیاروں کی آخری رسومات میں شریک ہو سکے۔ وہ اپنے والدین اور پہلی اہلیہ کی وفات تک نہ پہنچ سکے، ایک دکھ جو آج بھی ان کی آنکھیں نم کر دیتا ہے۔
لیکن اب دونوں ممالک کے درمیان 14 سال بعد براہِ راست پروازیں بحال ہو گئی ہیں، شاہ عالم کی امیدیں پھر سے جاگ اٹھی ہیں۔
’میں ضرور جاؤں گا‘ وہ بھیگی آنکھوں سے کہتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے بعد وہ اپنے بیٹے کے ساتھ واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ شاہ عالم اب بھی بنگلہ دیش میں اپنی خاندانی زمین اور آبائی گھر کے مالک ہیں۔
’میرا سب کچھ وہیں ہے، مگر میں یہاں پھنس گیا تھا۔ نہ حالات اچھے تھے، نہ جیب اجازت دیتی تھی۔‘
1971 کی تلخ جنگ اور بچھڑی ہوئی نسلیں
1971 کی جنگ کے بعد جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا، لاکھوں بنگالی پاکستان میں ہی رہ گئے۔ آج بھی اندازوں کے مطابق 10 لاکھ سے زائد بنگالی پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں اور اکثر کے پاس نہ شہریت ہے، نہ شناختی کارڈ۔
کراچی کی مچھر کالونی میں رہنے والے 20 سالہ حسین احمد کی آواز میں بے بسی صاف سنائی دیتی ہے، ’میرا شناختی کارڈ نہیں ہے، میرے والد کا بھی نہیں۔ میں بنگلہ دیش کیسے جاؤں؟‘
رفیقول حسین کہتے ہیں کہ ’ہماری تو چوتھی نسل پاکستان میں ہے۔ ملک کی ترقی میں ہم بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
کئی بنگالی خاندان نسلوں سے کراچی میں رہ رہے ہیں، مگر پھر بھی خود کو پاکستان میں ’غیر شہری‘ محسوس کرتے ہیں۔ بہت سے نوجوان نہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، نہ بہتر روزگار، اور نہ ہی اپنے رشتے داروں سے ملنے بنگلہ دیش جا سکتے ہیں۔
22 سالہ ایک اور نوجوان احمد بتاتے ہیں کہ ’میں یہیں پیدا ہوا، میں پاکستانی ہوں۔ مگر کاغذوں میں مجھے آج بھی بنگلہ دیشی کہا جاتا ہے۔‘
خلیج کم ہونے لگی
2024 میں بنگلہ دیش میں نئی قیادت آنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی آئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کا ڈھاکہ کا تاریخی دورہ اور حالیہ براہِ راست پروازوں کی بحالی نے پاکستان میں مقیم بنگالیوں میں نئی امید بھر دی ہے۔
کراچی کی میونسپل حکومت میں بنگالی برادری سے تعلق رکھنے والے رفیقول حسین کہتے ہیں کہ ’ہماری تو چوتھی نسل پاکستان میں ہے۔ ملک کی ترقی میں ہم بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘
وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے بہتر تعلقات سے پاکستانی بنگالیوں کے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
حافظ زین العابدین شاہ نے کہا کہ ’نئے تعلقات نے خوشی کی ایک لہر پیدا کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اپنی شناخت کھوتے لوگ، مگر دل میں امید باقی
سماجی کارکن حافظ زین العابدین شاہ کے مطابق کراچی میں بسنے والے زیادہ تر بنگالی اردو بولتے ہیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی ثقافت کا ایک بڑا حصہ کھو دیا ہے۔
’ہماری زبان، ہمارا لباس سب بدل چکا ہے۔‘
مگر اس کے باوجود وہ مانتے ہیں کہ ’نئے تعلقات نے خوشی کی ایک لہر پیدا کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔‘