Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، پاکستان اور چین کا مطالبہ

اسلام آباد بیجنگ کو ایک اہم سرمایہ کاری پارٹنر کے طور پر بھی دیکھتا ہے (فوٹو: فارن آفس)
پاکستان اور چین نے پیر کے روز افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور ٹھوس اقدامات کرے، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو معتدل پالیسیاں اپنانے اور بین الاقوامی برادری میں ضم ہونے کی ترغیب دیں گے۔
پیر کو چین اور پاکستان کا مشترکہ بیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیجنگ میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔ اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے چار جنوری کو بیجنگ میں چین پاکستان وزرائے خارجہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی شعبوں، انسدادِ دہشت گردی، دفاع اور علاقائی امور میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں کیونکہ اسلام آباد کا الزام ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اسلام آباد افغان طالبان حکومت پر ان حملوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے جن کی کابل بارہا تردید کرتا رہا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور نہ ہی کسی ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جائے۔‘
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔
دوطرفہ تعاون کے حوالے سے چین اور پاکستان نے کہا کہ انہوں نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ساتھ ہی جنوب مغربی پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور اس کے آپریشن کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

 پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا (فوٹو: پی آئی ڈی)

اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تزویراتی، سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اسلام آباد اور بیجنگ دونوں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں۔ دونوں ملک کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق پاکستان کے ساتھ اس کی دو طرفہ تجارت 2024 میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئ، جو کہ سال بہ سال کی بنیاد پر 11 فیصد زیادہ ہے۔
اسلام آباد بیجنگ کو ایک اہم سرمایہ کاری پارٹنر کے طور پر بھی دیکھتا ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سی پیک، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

شیئر: