Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہر فون کال پر دل دہل جاتا ہے‘، تربت میں تاوان کے لیے اغوا نوجوانوں کے خاندان پریشان

’جب سے حسیب کو اغوا کیا گیا ہے، گھر کا سکون ختم ہو گیا ہے۔ ماں اسی دن سے بیمار ہیں، تین بار بے ہوش ہو چکی ہیں اور انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ بچے بار بار باپ کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ ہر فون کال پر دل دہل جاتا ہے کہ نہ جانے کیا خبر ملے گی۔‘
یہ الفاظ حسیب یاسین کے اہلخانہ کے ہیں جو تربت سے ٹیلی فون پر اپنے اس کرب کو بیان کر رہے تھے جو آٹھ دسمبر کے بعد ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ یہ صدمہ اس لیے بھی زیادہ گہرا ہے کہ حسیب کو 10 برس قبل بھی اغوا کیا گیا تھا اور اب دوسری بار اُن کی جان کے بدلے کروڑوں روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
حسیب کے بڑے بھائی رمیز یاسین نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’آٹھ دسمبر کو حسیب یاسین تربت کے علاقے آبسر میں دکان بند کرکے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ گاڑی میں گھر واپس آ رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کا راستہ روکا۔ مسلح افراد نے گاڑی سے اتار کر انہیں اغوا کر لیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اغوا کار اس قدر بے خوف تھے کہ گلیوں کی بجائے مین سڑک کے راستے ہی فرار ہوئے جیسے انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ ہو حالانکہ انہیں شہر کے اندر ایسے علاقے سے اٹھایا گیا جہاں ہر وقت سخت سکیورٹی رہتی ہے اور کئی کئی چیک پوسٹیں قائم ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 35 سالہ حسیب یاسین تین بچوں کے باپ ہیں، ان کی سب سے بڑی بیٹی آٹھ سال کی ہے جو ہر روز اپنے والد کے بارے میں سوال کرتی ہے اور ہمارے پاس انہیں جواب دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
گوادراور پنجگور کے اضلاع اور ایران کی سرحد سے ملحقہ بلوچستان کا ضلع کیچ گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی کا شکار ہے۔ کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت میں گزشتہ دو ماہ کے دوران اغوا برائے تاوان کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

ڈاکٹر فاروق رند نے بتایا کہ شاہ نواز اور حسیب یاسین دونوں بلڈ پریشر کے مریض ہیں (فائل فوٹو)

اس سے قبل یکم دسمبر کو ایک ٹھیکیدار کے بیٹے اور نجی ہسپتال کے مالک شاہ نواز کو شہر کے اندر مولائی بازار کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔ اہلخانہ کے مطابق اغوا کے پانچ دن بعد افغانستان کے ایک نمبر سے فون آیا اور 60 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ’رہائی کے لیے جتنا تاوان مانگا جارہا ہے وہ ہماری استطاعات سے باہر ہے۔ ہم اتنی بڑی رقم کہاں سے لائیں؟‘
شاہ نواز کے بھائی ڈاکٹر فاروق رند نے بتایا کہ ان کے بھائی سرسید یونیورسٹی کراچی سے کمپیوٹر انجینیئرنگ میں گریجویشن کر چکے ہیں اور تربت میں ایک نجی ہسپتال چلا رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر خاندان کو اُن کی کوئی خبر نہیں۔ اغواکار مسلسل فون کرکے تاوان مانگ رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ شاہ نواز چار بچوں کے باپ ہیں، بچے روزانہ پوچھتے ہیں کہ والد کہاں ہیں اور گھر والے ہر روز کوئی نیا بہانہ بنا کر انہیں خاموش کراتے ہیں۔ اب جھوٹے دلاسے بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق شاہ نواز اور حسیب یاسین دونوں بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور یہ خدشہ ہے کہ ان کے پاس ادویات بھی موجود نہیں ہوں گی جس کی وجہ سے دونوں خاندانوں کو مغویوں کی صحت و سلامتی سے متعلق بہت تشویش ہے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ’ہماری اغوا کاروں سے اپیل ہے کہ وہ دونوں نوجوانوں کو انسانی ہمدردی کی بناء پر رہا کریں اور ان کے خاندانوں کو اس کرب سے نجات دلائیں۔‘
تربت کے رہائشی اور آل پارٹیز کیچ کے کوآرڈینیٹر نواب خان شمبے زئی کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے تربت میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ تاجر اور عام شہری خود کو غیرمحفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ دونوں واقعات شہر کے اندر ایسے علاقوں میں ہوئے ہیں جہاں سکیورٹی کے انتظامات ہوتے ہیں۔
حسیب یاسین اور شاہنواز سمیت اغوا برائے تاوان کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے خلاف پیر کو آل پارٹیز کیچ کے زیر اہتمام ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی۔

آل پارٹیز کیچ کی جانب سے مغویوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ریلی مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی تربت کے فدا چوک پہنچی جہاں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں ضلع کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، تاجر برادری، وکلاء، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔
خواتین نے بھی احتجاج میں شریک ہوکر متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ کیچ بار کونسل کی جانب سے عدالتوں کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیچ میں بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اغوا شدہ نوجوانوں حسیب یاسین اور شاہ نواز کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔
سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر کیچ کو بدامنی کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن کیچ کے باشعور عوام ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
حسیب یاسین کے بھائی رمیز یاسین کا کہنا ہے کہ اگر 10 سال پہلے اغوا کے ذمہ داروں کو پکڑ کر سزا دی جاتی تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ان کے مطابق واقعے کے وقت ضلع میں ڈپٹی کمشنر موجود نہیں تھے اور بعد میں بھی انتظامیہ کی جانب سے کوئی تعاون اور واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
وہ کہتے ہیں کہ پولیس کی کارکردگی سے بھی وہ مطمئن نہیں اور اہلخانہ کو کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ رمیز یاسین کا کہنا ہے کہ جب شہر میں اغوا کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا اس وقت انتظامیہ سپورٹس فیسٹیول میں مصروف تھی جو شہریوں کے تحفظ اور اپنی ذمہ داریوں سے متعلق انتظامیہ کی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے۔
آل پارٹیز کیچ کے کنوینئر نواب شمبے زئی کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات ماضی میں سنہ 2009 سے 2012 کے درمیان دیکھنے میں آئے تھے تاہم ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی تھی۔ ان کے مطابق اب ایک بار پھر ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جس سے تاجر اور عام شہری خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی خاندان کے بیٹے کو دوسری بار اغوا کیا جانا حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔

شاہ نواز چار بچوں کے باپ ہیں، بچے روزانہ پوچھتے ہیں کہ والد کہاں ہیں (فائل فوٹو)

آل پارٹیز کیچ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اگر سات جنوری تک مغویوں کو بازیاب نہ کرایا گیا تو تربت میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی اور اس کے بعد مزید سخت لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
اردو نیوز نے پولیس کا مؤقف جاننے کے لیے ایس ایس پی کیچ زوہیب محسن اور ایس ڈی پی او شیر جان سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی تاہم ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔
تاہم تربت پولیس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ ’دونوں خاندانوں نے بتایا ہے کہ انہیں افغانستان اور ایک افریقی ملک کے نمبروں اور مقامی نمبر سے بھی کال کرکے کروڑوں روپے تاوان مانگا جا رہا ہے۔ پولیس دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہی ہے اور اس بات کا خیال رکھا جارہا ہے کہ مغویوں کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔‘

 

شیئر: