Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی کارروائی قانون کے مطابق نہیں، وینزویلا میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکی کارروائی میں صدر نکولس مادورو کے پکڑے جانے کے بعد ممکنہ طور پر وینزویلا میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پیر اقوام متحدہ کی 15 رکنی سکیورٹی کونسل کا وینزویلا کی صورتحال پر اجلاس ہوا۔ اس کے بعد نکولس مادورو کو نیو یارک کے مین ہٹن کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کر کے منشیات کے ذریعے دہشت گردی کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا جس کا انہوں نے انکار کیا۔
سکیورٹی کونسل کے سامنے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا بیان ادارے کے سیاسی امور کے سربراہ روزمیری ڈیکلارو نے پڑھا۔
انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ’میں وینزویلا میں عدم استحکام کی ممکنہ شدت، خطے پر اس کے ممکنہ اثرات، اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے لیے یہ جو مثال بن سکتا ہے، کے حوالے سے فکرمند ہوں۔‘
سیکریٹری جنرل نے وینزویلا میں تمام کرداروں سے ایک جامع اور جمہوری مکالمے میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ان تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہوں اور ان کی حمایت کے لیے تیار ہوں جن کا مقصد وینزویلا کے باشندوں کو آگے بڑھنے کے لیے پرامن راستہ تلاش کرنے میں مدد کرنا ہے۔‘
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سنیچر کو کراکس میں مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی آپریشن نے بین الاقوامی قوانین کا احترام نہیں کیا۔

’یہ جارحیت ہے‘

سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کرنے والے ملک کولمبیا کے نمائندے نے امریکی آپریشن کو وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سلامتی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔
اقوام متحدہ میں کولمبیا کے سفیر لیونور زالاباتا ٹوریس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’کسی بھی صورت میں یکطرفہ طور پر طاقت کے استعمال اور جارحیت کا کوئی جواز نہیں۔ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔‘

نکولس مادورو کو نیو یارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق امریکی کارروائی غیرقانونی تھی کیونکہ اس کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اجازت نہیں لی گئی اور اس میں وینزویلا کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ اسی طرح یہ کارروائی کسی مسلح حملے کے خلاف اپنے دفاع کے لیے بھی نہیں تھی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بین الاقوامی قانون کی کسی بھی خلاف ورزی کے لیے امریکہ کو جوابدہ نہیں ٹھہرا سکتی کیونکہ اس کے پاس ویٹو پاور ہے۔
امریکہ کے علاوہ روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے پاسبھی  ویٹو پاور ہے جو عالمی ادارے کی کسی بھی قرارداد کے اثر کو ختم کر سکتے ہیں۔

 

شیئر: