انڈیا میں پانچ سال سے ’بغیر کسی مقدمے کے قید‘ دو مسلمان طلبہ کی درخواست ضمانت مسترد
انڈیا میں پانچ سال سے ’بغیر کسی مقدمے کے قید‘ دو مسلمان طلبہ کی درخواست ضمانت مسترد
منگل 6 جنوری 2026 10:56
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مقدمے میں تاخیر ضمانت کے لیے مطلوبہ بنیاد فراہم نہیں کرتی (فوٹو: ویب سائٹ انڈین سپریم کورٹ)
انڈیا کی سپریم کورٹ نے ان دو مسلمان طلبہ کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے جن پر مذہبی تشدد پھیلانے کی سازش کا الزام ہے اور وہ بغیر کسی مقدمے کے برسوں سے قید ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام کو پانچ سال قبل سخت سکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر فروری 2020 میں دہلی کے کچھ حصوں میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی سازش کا الزام لگایا گیا تھا۔
اس وقت ہنگاموں میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے اور ایسا 2019 میں بننے والے ایک قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں میں ہوا تھا، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو امتیاز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسی کیس میں حراست میں لیے گئے دیگر پانچ افراد کی ضمانت منظور کر لی گئی تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ ’عمر خالد اور شرجیل امام نے سازش میں مرکزی کردار ادا کیا۔‘
اس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقدمے میں ہونے والی تاخیر ضمانت دینے کے لیے کافی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔
قوانین سے متعلق معلومات دینے والی ویب سائٹ بار اینڈ بینچ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کا معاملہ مقدمے کے دیگر ملزمان سے مختلف ہے۔
دونوں طلبہ شہریت کے قانون کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں نمایاں تھے اور یہ قانون نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آیا۔
انڈیا میں 2019 میں ایک مبینہ مسلم مخالف قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
طلبہ کی گرفتاری کو اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی علامت کے طور پر دیکھا گیا اور انسانی حقوق کے گروپس کی جانب سے طلبہ و کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے استمعال پر تنقید کی گئی۔
ہنگاموں کے بعد پولیس نے متعدد کارکنوں اور تنظیموں پر وہ دفعات لگائی گئیں جو اس سے قبل صرف پرتشدد شورش کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں، تاہم مودی دور میں ایسا وسیع پیمانے پر سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔
قانون کے تحت حراست میں لیے جانے والے کارکن اور دیگر مخالفین کو غیر معینہ مدت کے لیے مقدمے سے قبل حراست میں رکھا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر لوگ کئی برس زیر حراست رہتے ہیں۔
دہلی پولیس کی نمائندگی کرنے والے استغاثہ کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی سختی سے مخالفت کی گئی تھی اور دلیل دی گئی تھی کہ ’تشدد اپنے طور پر نہیں پھیلا بلکہ یہ ایک دانستہ سازش تھی جس کا مقصد ملک کے عالمی امیج کو خراب کرنا تھا۔‘
اس کی جانب سے ان پر نفرت انگیز تقریریں کرنے اور تشدد کو ہوا دینے کے الزامات بھی لگائے گئے۔
دوسری جانب عمر خالد اور شرجیل امام کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کے تشدد سے منسلک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور وہ اپنے خلاف لگنے والے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
نریندر مودی کی حکومت کو سخت قوانین کے ذریعے مخالفین کو خاموش کرانے کے الزامات کا سامنا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
دہلی پولیس کی نمائندگی کرنے والے استغاثہ نے خالد اور امام کی ضمانت کی درخواست کی سختی سے مخالفت کی تھی، یہ دلیل دی تھی کہ تشدد ایک بے ساختہ پھیلنا نہیں تھا بلکہ ایک دانستہ سازش تھی جس کا مقصد ہندوستان کی عالمی امیج کو خراب کرنا تھا، اور یہ کہ انہوں نے اشتعال انگیز تقریریں کیں اور تشدد کو ہوا دی۔ خالد اور امام کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے تشدد سے منسلک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور وہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
ایسے ہی دیگر کیسز میں درجنوں دیگر مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کو لمبی حراستوں کا سامنا رہا، ان میں سے کچھ کیس غلط ثابت ہوئے کیونکہ پولیس ان کے فسادات میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔
پچھلے ہفتے آٹھ امریکی قانون سازوں نے انڈیا کے سفیر کے نام خط لکھ کر عمر خالد کی طویل حراست پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور انڈین حکام پر بروقت اور منصفانہ ٹرئل کے لیے زور دیا تھا۔