سائبر حملہ یا تکنیکی خرابی؟ بینک آف پنجاب میں غیر معمولی ٹرانزیکشن کی وجہ کیا ہے؟
سائبر حملہ یا تکنیکی خرابی؟ بینک آف پنجاب میں غیر معمولی ٹرانزیکشن کی وجہ کیا ہے؟
منگل 6 جنوری 2026 15:12
زین علی -اردو نیوز، کراچی
بینک کے مطابق ’یہ ٹرانزیکشن کسی سائبر حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ کریڈٹ کارڈ سسٹم میں تکنیکی خرابی تھی‘ (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
بینک آف پنجاب میں کریڈٹ کارڈز کے ذریعے غیر معمولی ٹرانزیکشن سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں بینک پر مبینہ سائبر حملے کے دعوے کیے گئے، تاہم بینک کی انتظامیہ نے ان خبروں پر وضاحت جاری کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ بینک آف پنجاب کے کریڈٹ کارڈ سسٹم کے ذریعے غیر مجاز لین دین ہوا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے کو سائبر حملے سے جوڑا جانے لگا۔
اس صورت حال کے پیشِ نظر بینک آف پنجاب نے ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں مبینہ سائبر حملے کی خبروں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
بینک آف پنجاب کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ معمول کی مانیٹرنگ کے دوران کچھ کریڈٹ کارڈ کی ٹرانزیکشنز میں بے ضابطگیاں نوٹ کی گئیں، جس کے بعد فوری طور پر اندرونی سطح پر جائزے اور جانچ کا عمل شروع کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس داخلی جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ لین دین کسی سائبر حملے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کریڈٹ کارڈ سسٹم میں پیش آنے والی ایک عارضی تکنیکی خرابی کے باعث بعض موجودہ صارفین غیر مجاز لین دین کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔
بینک انتظامیہ کے مطابق یہ معاملہ کسی مخصوص سرکاری سکیم یا پروگرام، بشمول آسان کاروبار کارڈ یا کسی دیگر حکومتی منصوبے سے منسلک نہیں تھا بلکہ محدود تعداد میں بینک کے کریڈٹ کارڈ صارفین اِس سے متاثر ہوئے۔
بینک کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جیسے ہی تکنیکی مسئلے کی نشان دہی ہوئی، اسے فوری طور پر دُور کر دیا گیا اور سسٹم میں موجود خلا کو بند کر دیا گیا ہے۔
بینک آف پنجاب نے اس معاملے پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ جمعہ دو جنوری کو ہونے والے سسٹم اپ ڈیٹ کا اس مخصوص کریڈٹ کارڈ معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بینک انتظامیہ نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر مجاز کال، پیغام یا پیش کش سے محتاط رہیں (فائل فوٹو: پِکسابے)
بینک کے مطابق دونوں معاملات کو آپس میں جوڑنا دُرست نہیں ہے۔اعلامیے کے مطابق رقوم کی وصولی اور دیگر متعلقہ اقدامات بینک کے طے شدہ طریقِ کار کے مطابق جاری ہیں۔
بینک کا کہنا ہے کہ زیادہ تر متاثرہ صارفین سامنے آچکے ہیں اور اوور لِمٹ استعمال کی گئی رقوم کی ادائیگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ بینک انتظامیہ کے مطابق اس سے معمول کے آپریشنز پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔
بینک آف پنجاب نے یہ بھی کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر نقصان کی مجموعی رقم سے متعلق جو اعدادوشمار یا دعوے گردش کر رہے ہیں وہ قیاس آرائی اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں، جبکہ صورتِ حال اس سے مختلف ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بینک نے متاثرہ کریڈٹ کارڈ صارفین سے براہِ راست رابطہ کر کے انہیں معاملے سے آگاہ کر دیا ہے، جبکہ جن صارفین سے رابطہ نہیں کیا گیا وہ اس معاملے سے متاثر نہیں ہوئے اور انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
مزید برآں بینک نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر مجاز کال، پیغام یا پیش کش سے محتاط رہیں۔ صارفین صرف بینک کی تصدیق شدہ ہیلپ لائن پر مجاز افسران سے تصدیق کے بعد ہی کسی مالی معاملے پر بات کریں۔
بینک آف پنجاب کے مطابق یہ وضاحتی بیان عوامی مفاد میں جاری کیا گیا ہے تاکہ غلط معلومات کی روک تھام کی جا سکے اور صارفین کو سائبر فراڈ سے متعلق آگاہی فراہم کی جا سکے۔ بینک نے صارفین کو مزید معلومات یا وضاحت کے لیے اپنی ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔