Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ضلع کُرم: مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت تری تنگ پل کیسے تعمیر کیا؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع سینٹرل کرم کے تری تنگ نالے پر برسوں تک لوگ رکتے تھے اور دل ہی دل میں اس پر ایک پل کی تعمیر کی دعا کیا کرتے تھے۔
اس دوران حادثات ہوئے، نقصان اٹھایا گیا، مطالبے کیے گئے مگر جواب میں خاموشی ملی۔ آخرکار مقامی افراد نے انتظار ختم کیا اور وہ کام خود کر دکھایا جو برسوں سے ایک خواب بنا ہوا تھا۔
وہ بغیر کسی حکومتی منصوبے، بغیر کسی سیاسی تختی کے تری تنگ پل اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔
تری تنگ پل کا باقاعدہ افتتاح مقامی لوگوں نے خود کیا اور اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا۔
گاؤں کے سماجی ورکر محمد رفیق نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس پل کی تعمیر ایک دیرینہ مطالبہ تھا کیونکہ اس مقام پر متعدد ٹریفک حادثات رونما ہو چکے ہیں جس کے باعث مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔‘ 
انہوں نے کہا کہ ’اہلِ علاقہ حکومت سے گزشتہ کئی برسوں سے پل کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے بالآخر مایوس ہو کر اپنی مدد آپ کے تحت خود اس پل پر کام شروع کیا۔‘

اس پل کی تعمیر پر 25 لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے (فوٹو: ویڈیو گریب)

محمد رفیق نے کہا کہ ’پل کی تعمیر کے لیے مقامی افراد نے مالی مدد فراہم کی جس میں خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں جبکہ اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اوورسیز پاکستانیوں نے سب سے زیادہ تعاون کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’پردیس میں رہنے والے کُرم کے بھائیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ اگر ساتھ نہ دیتے تو شاید یہ منصوبہ مکمل نہ ہو پاتا۔‘ 
محمد رفیق کا کہنا تھا کہ ’پل کی تعمیر میں حکومت یا کسی بھی سیاسی نمائندے نے تعاون کیا نہ شہریوں کی سرپرستی کی۔‘
’پل کی تعمیر پر 25 لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے اور چونکہ یہ برساتی نالے پر قائم ہے تو اس لیے اس کی اونچائی زیادہ رکھی گئی ہے تاکہ سیلاب آنے کی صورت میں اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘ 
انہوں نے مزید کہا کہ ’تری تنگ اور ویلیج کونسل نمبر 4 میں چار سے 10 گاؤں شامل ہیں جن کی آبادی اڑھائی ہزار گھرانوں پر مشتمل ہے۔ اس پل کی تعمیر سے آمد و رفت میں آسانی کے ساتھ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔‘

تری تنگ پل کی تعمیر کے لیے چندے کا اعلان کیا گیا تھا (فوٹو: ویڈیو گریب)

ضلع خیبر کے رہائشیوں کے لیے بھی آسانی
مقامی شہری فرید اللہ کے مطابق تری تنگ پل کی تعمیر سے سینٹرل کرم کی ضلع خیبر کے دیہات تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ یہ شاہراہ تیراہ اور خاوری کلے تک جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مسوزئی اور آفریدی اقوام بھی آمد و رفت کے لیے تری تنگ پل کا استعمال کر رہی ہیں۔ ‘

تری تنگ پل کا باقاعدہ افتتاح مقامی لوگوں نے خود کیا (فوٹو: ویڈیو گریب)

فرید اللہ نے بتایا کہ ’پل کی تعمیر کے لیے چندے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے لیے مقامی لوگوں نے حسبِ استطاعت مدد کی۔‘
ضلع کرم گزشتہ ایک سال سے بے امنی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک کرم کی دیگر اضلاع سے آمد و رفت متاثر رہی ہے۔

شیئر: