Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں الجوف کو ’زیتون کی سرزمین‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

انیسویں سالانہ الجوف بین الاقوامی زیتون فیسٹیول جمعرات سے شروع ہونے جا رہا ہے جس میں وسیع پیمانے پر مقامی اور عالمی سطح کی شرکت متوقع ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق 2026 کا ایڈیشن تقریباً دو دہائیوں کے اس ورثے کو آگے بڑھا رہا ہے جس نے الجوف کے علاقے کو سعودی عرب کے اُن اہم پروگراموں میں شامل کر دیا ہے جو مملکت اور بیرون ملک سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
الجوف جو مملکت کے ’فوڈ باسکٹ‘ اور ’زیتون کی سرزمین‘ کے طور پر مشہور ہے، میں دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت پائے جاتے ہیں جو سالانہ ایک لاکھ 50 ہزار ٹن سے زیادہ زیتون پیدا کرتے ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً 30 زیتون کے تیل کے کارخانے ہیں جو ہر سال تقریباً 18 ہزار  ٹن زیتون کا تیل پیدا کرتے ہیں۔
الجوف میں دنیا کا سب سے بڑا آرگینک زیتون کا فارم بھی واقع ہے جو گنیز ورلڈ ریکارڈز میں باقاعدہ درج ہے اور جس میں 50 لاکھ سے زیادہ درخت موجود ہیں۔ اس علاقے کو گنیز ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کے سب سے بڑے جدید زیتون فارم کے میزبان کے طور پر بھی تسلیم کیا ہے۔
یہ فیسٹیول مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع شرکت کو متوجہ کرتا ہے، جس میں ماہرین، سپیشلسٹ، شوقین افراد کے ساتھ ساتھ کمپنیاں اور کاشتکار بھی شامل ہیں۔ یہ فیسٹیول زیتون کی مصنوعات اور جدید کاشتکاری سے متعلق بھی ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے جبکہ علم کے تبادلے اور شراکت داری قائم کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

گزشتہ ایڈیشن میں سات ممالک کی شرکت دیکھنے میں آئی جن میں اٹلی، ترکی، مصر، اردن، سپین، فلسطین اور شام شامل تھے۔
یہ ایونٹ الجوف کے زیتون کے شعبے کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ علاقے کی زیتون کی مصنوعات کو سامنے لاتا ہے اور معیار اور مسابقت کو بہتر بناتا ہے۔ کئی زمیندار اس فورم میں فعال طور پر حصہ لیتے ہیں تاکہ مارکیٹنگ اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

شیئر: