ایک ملک سے دوسرے ملک کا بغیر کسی پابندی کے سفر ہو، بارڈر پر طویل قطار سے چھٹکارا ہو، اپنے خوابوں کی دُنیا والی سرزمین پر بسنے اور کام کرنے کی خواہش ہو، یا خاندانی جڑوں سے دوبارہ جُڑنے کی کوشش، یہ سب اور اس سے بھی کچھ زیادہ اُن لوگوں کا خواب ہے جو دُہری شہریت کے خواہاں ہیں۔
امریکی میڈیا ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق دوسرے پاسپورٹ کے حصول کے لیے عالمی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اس میں گذشتہ برس کے اواخر میں معروف ہالی وڈ اداکار جارج کلونی اور اُن کی اہلیہ و بچے بھی شامل ہو گئے۔
دُہری شہریت دو ممالک کے شہری ہونے کی سہولت حاصل کرنا طویل عرصے سے مسافروں، غیرملکیوں اور خواب دیکھنے والوں میں مقبول رہا ہے۔ چونکہ دنیا میں آزادانہ سفر وقت کے ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے تو بہت سے مال دار افراد بھی ایک سے زیادہ ملکوں میں رہائش رکھنے اور کام کرنے کی خواہش پالتے ہیں۔
مزید پڑھیں
سی این این کے مطابق کون نہیں چاہے گا کہ ایئرپورٹ پر پاسپورٹ کنٹرول پر طویل قطاروں کو چھوڑ کر مقامی افراد کے ساتھ کھڑے ہو کر ملک میں داخل ہو۔ دوسری شہریت حاصل کرنا اس دروازے کو کھولنے والی کلید ہو سکتی ہے۔
تاہم اکیسویں صدی کی سیاست اور بہت سے ملکوں میں قوم پرستی کی لہر دُہری شہریت کے خلاف جا سکتی ہے۔ سنہ 2025 میں کئی یورپی ممالک نے ’گولڈن پاسپورٹ‘ پروگرام کے لحاظ سے شہریت کی شرائط کو سخت کر دیا۔
یہ پاسپورٹ اُن افراد کے لیے ہوتا ہے جن کے پاس بہت زیادہ دولت ہوتی ہے یا وہ ان ملکوں میں زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔
اسی طرح امریکہ میں اوہائیو کے ریپبلکن سینیٹر برنی مورینو نے ایک ’خصوصی شہریت کے قانون‘ کا بل پیش کیا ہے جس کے تحت امریکیوں پر کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے پر پابندی ہوگی۔
دُہری شہریت کتنی عام ہے؟
ٹیمپل یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر پیٹر سپیرو کا کہنا ہے کہ صحیح تعداد کو جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر ممالک شہریوں پر یہ لازم نہیں کرتے کہ وہ اعلان کریں کہ آیا وہ متعدد ملکوں کی شہریت کے حامل ہیں۔

تاہم ایک چیز واضح نظر آتی ہے کہ دُہری شہریت تیزی سے مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ برطانیہ کی آبادی کی 2021 کی مردم شماری میں انگلینڈ اور ویلز کے دو فیصد سے زیادہ باشندوں کے پاس متعدد پاسپورٹ تھے- یہ سنہ 2011 کی مردم شماری کے نتائج سے قریباً دوگنا تعداد تھی جب میں صرف ایک فیصد آبادی نے خود کو دُہری شہریت کا حامل قرار دیا تھا۔ اور امریکیوں کے ’یو گورنمنٹ‘ کے حالیہ سروے میں 6 فیصد نے خود کو دُہری شہریت رکھنے والے بتایا تھا۔
کس قسم کے لوگ متعدد شہریت رکھتے ہیں؟
رپورٹ کے مطابق اپنے آبائی ملکوں کو چھوڑنے والے اور تارکین وطن بن کر ایک نئے ملک میں رہائش اختیار کرتے ہیں وہ اپنی اصل شہریت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ حالیہ دہائیوں میں متعدد دولت مندوں نے بھی عالمی سفر کو آسان کے لیے دُہری شہریت اختیار کی ہے۔

اب دنیا تیزی سے اُتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ نومبر کے گیلپ سروے سے پتا چلا ہے کہ پانچ میں سے ایک امریکی کسی دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرنا چاہے گا، جس میں 15 سے 44 سال کی عمر کی 40 فیصد خواتین بھی شامل ہیں- 2014 میں کیے گئے اسی طرح کے سروے کے نتائج کے مقابلے میں یہ 400 فیصد اضافہ ہے۔
ہینلی اینڈ پارٹنرز کے پرائیویٹ کلائنٹس کے گروپ ہیڈ ڈومینک وولک کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ایک نئی شروعات کی خواہش دوسرے پاسپورٹ کے لیے درخواست دہندگان کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ظاہر ہوتی ہے۔
یہ گروپ دنیا بھر میں دُہری شہریت کے حصول میں دولت مند افراد کی مدد کرتا ہے۔ سنہ 2025 میں انہوں نے 91 قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی مدد کی تھی جن میں امریکی سرفہرست تھے۔

ارجنٹائن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ رواں سال پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پروگرام کے تحت پاسپورٹ یا شہریت دے گا جبکہ ایل سلواڈور شہریت کے حصول کے ایک پروگرام کے تحت بِٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا راستہ کھول رہا ہے۔
ڈومینک وولک کے مطابق دُہری شہریت غیریقینی دنیا میں ’پلان بی‘ رکھنے کے حوالے سے ہے۔
اُن کے مطابق جنوبی افریقہ کا ایک شہری جس کے پاس سرمایہ کاری کے ذریعے مونٹی نیگرین پاسپورٹ بھی ہے، اسے اب 2028 میں یورپی یونین کا شہری بننا چاہیے۔ اسی طرح وہ دبئی کا گولڈن ویزہ، اور سنگاپور میں رہائش بھی رکھ سکتا ہے۔
دُہری شہریت کے حصول کے لیے شہریوں اور سرمایہ کاروں کی مدد کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ آگے مزید مشکلات ہو سکتی ہیں، قواعد بدل جائیں گے اور پروگرام زیادہ مہنگے ہو جائیں گے۔ اس لیے ’جو ملے حاصل کر لو۔‘












