کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ کا پاسپورٹ پھٹ جائے، خراب ہو جائے یا معمولی سا بھی خراب (ڈیمیج) ہو تو آپ بین الاقوامی سفر نہیں کر سکتے؟
بہت سے مسافر اس حقیقت سے اس وقت آگاہ ہوتے ہیں جب وہ ایئرپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹر کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور اچانک انہیں سفر سے روک دیا جاتا ہے۔
پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک نہایت حساس اور قانونی شناخت ہے جس کی ظاہری حالت بھی اس کی قانونی حیثیت جتنی ہی اہم سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
کسی بھی طرح پھٹ جانا، صفحات کا الگ ہونا، کور کا خراب ہونا یا ڈیٹا پیج کو نقصان پہنچنا اس دستاویز کو فوری طور پر ناقابلِ استعمال بنا دیتا ہے۔
حال ہی میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والا واقعہ اسی حقیقت کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا، جہاں ایک مسافر اپنی تمام تر تیاریوں، امیدوں اور خوابوں کے باوجود 15 اور 16 دسمبر 2025 کی درمیانی شب صرف اس لیے سفر سے محروم ہو گیا کہ اس کا پاسپورٹ مبینہ غفلت کے باعث پھٹ گیا۔
یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ مسافر کے لیے شدید ذہنی اور مالی صدمے کا باعث بنا بلکہ اس نے پاسپورٹ کی قانونی اہمیت اور ایئرلائنز کی ذمہ داریوں پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
ایئرپورٹ پر تعینات ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ کراچی سے جدہ جانے والے مسافر قدرت اللہ نجی ایئرلائن ایئر بلیو کی پرواز پی اے 170 کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہو رہے تھے۔ وہ روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جناح ٹرمینل پر ٹکٹ کی کنفرمیشن کے دوران ایئر بلیو کے ٹکٹنگ کاؤنٹر پر موجود عملے سے مبینہ طور پر مسافر کا پاسپورٹ پھٹ گیا۔ چند لمحوں کی یہ مبینہ غفلت مسافر کے لیے زندگی کے ایک اہم موڑ کو روکنے کا سبب بن گئی۔

پاسپورٹ کے خراب ہونے کے بعد امیگریشن حکام نے مسافر کو پرواز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی کیونکہ بین الاقوامی قوانین اور ملکی ضوابط کے مطابق خراب یا پھٹے ہوئے پاسپورٹ پر سفر ممکن نہیں ہوتا۔
اس دوران ایئر بلیو کی پرواز پی اے 170 مسافر کو چھوڑ کر جدہ روانہ ہو گئی جبکہ قدرت اللہ ایئرپورٹ پر ہی رہ گئے۔ متاثرہ مسافر نے ٹکٹنگ کاؤنٹر پر شدید احتجاج کیا اور موقف اختیار کیا کہ اس واقعے کے باعث اسے لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ بیرونِ ملک ملازمت، رہائش اور دیگر انتظامات پہلے ہی مکمل ہو چکے تھے۔
ایف آئی اے ذرائع نے اس موقعے پر واضح کیا کہ پھٹے ہوئے یا ڈیمیج پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کی اجازت دینا قانوناً ممکن نہیں کیونکہ ایسا پاسپورٹ سکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتا ہے اور امیگریشن نظام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے کی بنیاد پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں موجود ہے جس کے تحت پاسپورٹ کو ایک سرکاری اور حساس دستاویز قرار دیا گیا ہے۔
اس قانون کے مطابق اگر پاسپورٹ کسی بھی وجہ سے خراب ہو جائے، خواہ وہ مسافر کی اپنی غفلت ہو یا کسی تیسرے فریق کی تو وہ فوری طور پر اپنی قانونی حیثیت کھو دیتا ہے۔ ایسے پاسپورٹ پر نہ صرف پاکستان سے باہر جانے بلکہ بعض اوقات ملک میں داخلے کے دوران بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ کی ظاہری حالت اس کی تصدیق، شناخت اور سکیورٹی سے براہِ راست جڑی ہوتی ہے۔ ’پھٹے ہوئے صفحات، خراب کور یا ڈیٹا پیج کو نقصان پہنچنے کی صورت میں جعل سازی، شناخت کی تبدیلی یا غیرقانونی استعمال کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے امیگریشن حکام ایسے پاسپورٹ کو مسترد کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے مجاز نہیں ہوتے، چاہے مسافر کی مجبوری کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو۔‘

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی مسافر کا پاسپورٹ کسی ادارے یا ایئرلائن کے عملے کی غفلت یا لاپروائی سے خراب ہوا ہے تو متاثرہ شخص کو قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔ ایسے معاملات میں مسافر نقصان کے ازالے کے لیے درخواست دائر کر سکتا ہے اور مالی نقصان، ذہنی اذیت اور سفری رکاوٹ کا ازالہ طلب کر سکتا ہے۔
’اس کے علاوہ چونکہ ایئرلائن ایک سروس فراہم کرنے والا ادارہ ہے، اس لیے یہ معاملہ کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت بھی آ سکتا ہے، جہاں سروس میں غفلت ثابت ہونے پر ہرجانہ دلایا جا سکتا ہے۔‘
ماہرین کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کا کردار بھی ایسے واقعات میں نہایت اہم ہوتا ہے۔
ایئرلائن عملے کی تربیت، مسافروں کی دستاویزات کو محفوظ طریقے سے ہینڈل کرنے کے اصول اور ذمہ داریوں کا تعین ایسے حادثات کو روکنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر ایسے واقعات بار بار پیش آئیں تو یہ نہ صرف اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ ملک کے ایوی ایشن سسٹم کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔












