Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کویت کن شعبوں میں پاکستانی ورکرز کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے؟

حکام کے مطابق ‘توقع ہے کہ رواں برس کویت مزید پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے گا‘ (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
کویت میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے دوبارہ کُھلنے والے روزگار کے مواقع اب عملی صورت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں مختلف شعبوں میں پاکستانی ورکرز کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے مطابق کویت سے اس وقت ٹرانسپورٹ اور فوڈ سروسز کے شعبوں میں پاکستانی محنت کشوں کی خاصی طلب سامنے آئی ہے۔
اب کویت میں ڈرائیورز اور کچن ہیلپرز کی کیٹیگری میں پاکستانی ورکرز کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ 
کویتی آجروں کی جانب سے ان شعبوں میں پاکستانی ورکرز کے انتخاب کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور خلیجی ماحول سے ہم آہنگی کی بنیاد پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈرائیورز کے لیے مقررکردہ ملازمتوں میں بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار کے پاس گاڑی چلانے کا عملی تجربہ ہو اور وہ طویل اوقات کار کے دوران محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ 
کویتی قوانین کے مطابق ڈرائیونگ سے متعلقہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے امیدواروں کی جسمانی فٹنس اور کام کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان ملازمتوں کے لیے ماہانہ بنیادی تنخواہ 175 کویتی دینار مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس کے ساتھ 15 کویتی دینار ماہانہ فوڈ الاؤنس بھی دیا جائے گا، جس سے مجموعی آمدن میں واضح بہتری آتی ہے۔
اسی طرح فوڈ سروسز کے شعبے میں کچن ہیلپرز کی ضرورت بھی سامنے آئی ہے، جہاں امیدواروں سے باورچی خانے کے بنیادی امور، صفائی، کھانے کی تیاری میں معاونت اور ٹیم ورک کی صلاحیت کی توقع کی جا رہی ہے۔ 
اس کیٹیگری میں کام کرنے والے پاکستانی ورکرز کو ماہانہ 95 کویتی دینار بطور بنیادی تنخواہ فراہم کی جائے گی، جبکہ انہیں بھی 15 کویتی دینار فوڈ الاؤنس دیا جائے گا۔ 
کویتی آجروں کے مطابق یہ شعبہ اُن ورکرز کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے جو محدود مہارت کے باوجود محنت اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

کویت میں ڈرائیورز کی کیٹیگری میں پاکستانی ورکرز کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں (فائل فوٹو: پِکسابے)

ملازمت کے مجموعی پیکج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں کیٹیگریز میں منتخب ہونے والے ورکرز کو رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ طبی اخراجات، ورک پرمٹ، ویزہ اور دیگر قانونی تقاضے آجر کی جانب سے پورے کیے جائیں گے۔ 
اس کے علاوہ کویتی لیبر قوانین کے مطابق کام کے اوقات روزانہ آٹھ گھنٹے اور ہفتے میں چھ دن ہوں گے، جبکہ معاہدے کی مدت دو سال مقرر کی گئی ہے جو باہمی رضامندی اور قوانین کے تحت قابلِ توسیع ہو گی۔ 
ملازمین کو سالانہ بنیادوں پر آمدورفت کے لیے ایئر ٹکٹ اور دورانِ ملازمت ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس سے ابتدائی اور اضافی اخراجات کا بوجھ ورکرز پر نہیں پڑے گا۔
اہلیت کے عمومی معیار میں عمر، جسمانی صحت اور کام کی نوعیت سے مطابقت رکھنے کی صلاحیت کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ یہ مواقع خاص طور پر اُن پاکستانی نوجوانوں اور محنت کشوں کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں جو خلیجی ممالک میں قانونی اور محفوظ روزگار کے خواہش مند ہیں۔ 
ماہرین کے مطابق کویت کی جانب سے پاکستانی ورکرز کے لیے اس نوعیت کے پیکجز اس بات کا ثبوت ہیں کہ کویتی کمپنیاں ایک بار پھر پاکستان کو اپنی لیبر مارکیٹ کے لیے قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھنے لگی ہیں۔

پاکستانی ورکرز کو آمدورفت کے لیے ایئر ٹکٹ اور دورانِ ملازمت ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی ملے گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

کویت میں پاکستانی ورکرز کی تعیناتی کا یہ نیا مرحلہ 2011 میں سکیورٹی، ویزہ اور انتظامی وجوہات کی بنیاد پر پاکستان سمیت چند ممالک سے افرادی قوت کی بھرتی پر غیر اعلانیہ مگر سخت پابندیوں کے بعد اہم سمجھا جا رہا ہے۔ 
حالات میں عملی تبدیلی 2023 کے بعد سامنے آئی، جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط میں بہتری اور لیبر فریم ورک پر بات چیت کے نتیجے میں کویت نے محدود پیمانے پر پاکستانی ورکرز کو دوبارہ داخلے کی اجازت دینا شروع کی۔ 
اس کا پہلا واضح نتیجہ 2024 میں سامنے آیا، جب طویل وقفے کے بعد 1883 پاکستانی ورکرز قانونی طریقِ کار کے تحت کویت گئے۔ اگرچہ یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں کم تھی، لیکن اسے ایک اہم پیش رفت اور اعتماد کی بحالی کا نقطۂ آغاز قرار دیا گیا۔
یہی سلسلہ 2025 میں مزید مضبوط ہوتا دکھائی دیا، جب کویت جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تعداد بڑھ کر 6 ہزار 563 تک جا پہنچی۔ 
لیبر مارکیٹ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ کویتی آجر ایک بار پھر پاکستانی افرادی قوت کو قابلِ اعتماد، تجربہ کار اور تیزی سے کام سیکھنے والی لیبر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

بعض ملازمین کو ماہانہ 175 کویتی دینار تنخواہ جبکہ 15 کویتی دینار فوڈ الاؤنس بھی دیا جائے گا (فائل فوٹو: روئٹرز)

پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) کے ذریعے شفاف، محفوظ اور منظم بھرتیوں پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ماضی کی طرح انسانی سمگلنگ اور غیرقانونی ایجنٹس کے مسائل پیدا نہ ہوں۔
سنہ 2026 کے آغاز نے اس رُجحان کو مزید تقویت دی ہے، کیونکہ سال کے پہلے ہی ہفتے میں کویت سے پاکستانی ورکرز کے لیے بڑی طلب سامنے آ چکی ہے۔
اس کے بعد اب امید کی جا رہی ہے کہ رواں برس کویت ایک بار پھر پاکستانی محنت کشوں کی نمایاں منزل ثابت ہو سکتا ہے۔
او ای سی کے ذریعے ڈرائیورز، کچن ہیلپرز اور دیگر شعبوں میں ہونے والی حالیہ بھرتیوں کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں کویتی کمپنیاں نہ صرف پاکستانی ورکرز کو ترجیح دے رہی ہیں بلکہ انہیں براہِ راست سرکاری چینل کے ذریعے بلانے میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی اور دونوں ممالک کے درمیان لیبر تعاون کو مزید وسعت دی گئی تو 2026 نہ صرف کویت بلکہ مجموعی طور پر خلیجی خطے میں پاکستانی افرادی قوت کی مضبوط واپسی کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ 
ایسے میں کویت کے لیے روزگار کے بڑھتے مواقع ہزاروں پاکستانی خاندانوں کے لیے معاشی استحکام، جبکہ قومی معیشت کے لیے ترسیلاتِ زر میں اضافے کی نئی امید بن کر سامنے آرہے ہیں۔
 

شیئر: