اسلام آباد پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کرتے ہوئے اس کو حادثہ قرار دیا۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بھی بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ سیکٹر جی 12 کی غیرقانونی مہر آبادی میں ایک پلاٹ میں کھدائی کر کے سیوریج کا بڑا گڑھا بنایا گیا تھا جس میں بچہ گر کر ہلاک ہوا۔
بچے کی موت اس گڑھے کے پانی میں گرنے سے ہوئی جو علاقہ مکینوں نے کھودا تھا۔ ’پلاٹ میں کھدائی کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘
قبل ازیں اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر اسلام آباد انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ تین سالہ بچہ اپنی فیملی کے ساتھ دو تین دن کی چھٹیوں پر ننھیال آیا ہوا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بدھ کی شام جب بچہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا وہ خالی پلاٹ میں موجود سیوریج کے گڑھے میں گر گیا اور جان کی بازی ہار گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکٹر G-12 میں واقع مہرآبادی میں دو سے تین افراد نے 8 سے 10 گھروں کے لیے 10 سے 12 فٹ لمبا اور گہرا گڑھا کھودا اور اس میں سیوریج کا پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ جس وقت بچہ گرا گڑھا پانی سے بھرا ہوا تھا۔
واقعہ جس علاقے میں پیش آیا سی ڈی اے اُس کو غیرقانونی آبادی قرار دیتا ہے۔ فائل فوٹو
’اس معاملے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور جو افراد اس گڑھے کو کھودنے کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے گی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب تک ہلاک ہونے والے بچے کے خاندان میں سے کسی نے ایف آئی آر کے لیے رابطہ کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اب تک کسی نے رابطہ نہیں کیا، تاہم یہ مقدمہ انتظامیہ اپنی مدعیت میں درج کروا رہی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی مہر آبادی شہر کی سب سے بڑی کچی آبادی میں شمار ہوتی ہے جسے سی ڈی اے غیرقانونی قرار دیتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔