پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور آئی ٹی کے فروغ کی باتیں تو ہر حکومتی ایوان میں سنائی دیتی ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
ایک عام پاکستانی صارف جب انٹرنیٹ پر کوئی ڈیجیٹل سروس یا ایپ خریدتا ہے تو اسے قدم قدم پر ٹیکسوں کے ایک ایسے جال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کی جیب پر بھاری پڑتا ہے۔
حالیہ کچھ عرصے میں اس مسئلے نے اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر لی جب وفاقی حکومت کے بعد صوبائی حکومتوں، بالخصوص پنجاب نے بھی، بین الاقوامی آئی ٹی سروسز اور پلے سٹور سبسکرپشنز پر اپنا الگ ٹیکس وصول کرنا شروع کیا۔
مزید پڑھیں
-
پی ٹی اے ٹیکس میں بڑی کمی کا امکان، موبائل فون کتنے سستے ہوں گے؟Node ID: 903164
اگر آپ نیٹ فلیکس کی 11 سو روپے کی ماہانہ سبسکرپشن لیتے ہیں، تو اس پر وفاقی حکومت بھی مختلف مدوں میں ٹیکس کاٹتی ہے اور پنجاب ریونیو اتھارٹی بھی اپنا حصہ وصول کرتی ہے۔ اس دوہری ٹیکسیشن نے صارفین کو تذبذب اور معاشی بوجھ تلے دبا دیا ہے۔
پاکستان میں دوہرے ٹیکس کا قانونی معمہ اور اطلاق
پاکستان کے قانون اور 18 ترمیم کے تحت محاصل کی وصولی کا نظام وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔
آئینی اعتبار سے اشیاء پر سیلز ٹیکس وصول کرنا وفاق یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا دائرہ کار ہے، جبکہ سروسز یا خدمات پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کا اختیار صوبائی حکومتوں کو دیا گیا ہے۔
ٹیکس قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ رضوان علی کہتے ہیں کہ ’اس دوہری کٹوتی کا اصل تنازع اس تکنیکی اور قانونی خلا کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس میں یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ ڈیجیٹل سبسکرپشن اشیاء کے زمرے میں آتی ہے یا خدمات کے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’وفاقی حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر چارجز لگاتی ہے۔ دوسری جانب پنجاب ریونیو اتھارٹی ان ڈیجیٹل ایپس کو خالصتاً آئی ٹی سروسز قرار دے کر ان پر اپنا صوبائی سیلز ٹیکس نافذ کر دیتی ہے۔ قانون میں ایک ہی آمدن یا سروس پر دوہرا ٹیکس وصول کرنے کی ممانعت ہے، لیکن وفاق اور صوبہ اپنے اپنے قوانین اور تکنیکی تعریفات کا سہارا لے کر بینکوں کے ذریعے صارفین کے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز پر کٹوتیاں کر رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’یہ سلسلہ بنیادی طور پر جولائی 2023 کے بجٹ کے بعد سے زیادہ شدت اختیار کر گیا، جب صوبائی حکومتوں نے بینکوں کو پابند کیا کہ وہ غیر ملکی آئی ٹی سروسز کی ادائیگیوں پر براہ راست صوبائی ٹیکس کاٹ کر جمع کروائیں۔‘
پلے سٹور کی مقبول ترین پیڈ سبسکرپشنز
اگر ہم پاکستان میں گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور سے خریدی جانے والی سب سے مقبول پیڈ سروسز کا جائزہ لیں تو گوگل چارٹس کے مطابق ان میں تفریح، تعلیم اور روزگار سے جڑی ایپس سرفہرست ہیں۔
تفریحی ایپس میں نیٹ فلیکس، یوٹیوب پریمیم اور سپوٹی فائی کی سبسکرپشنز پاکستانیوں میں بے حد مقبول ہیں۔ اسی طرح پیشہ ورانہ اور تعلیمی مقاصد کے لیے کینوا، گوگل ون کی کلاؤڈ سٹوریج، زوم اور چیٹ جی پی ٹی پلس جیسی سروسز فری لانسرز استعمال کر رہے ہیں۔
یہ وہ ایپس ہیں جو اب محض عیاشی نہیں رہیں بلکہ روزمرہ زندگی اور کام کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ جب ایک صارف پلے سٹور پر ان میں سے کسی بھی ایپ کے لیے اپنا کارڈ منسلک کرتا ہے، تو اسے اصل قیمت سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنی پڑتی ہے کیونکہ بینک وفاقی اور صوبائی ٹیکسوں کی کٹوتی کے ساتھ ساتھ کرنسی ایکسچینج ریٹ کا مارجن بھی شامل کر لیتے ہیں۔
دوہری ٹیکسیشن سے متاثر ہونے والا اصل طبقہ کون ہے؟
سدرہ خان کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ فری لانسر ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’میں گزشتہ سات سال سے فری لانسر ہوں۔ لیکن جو حالات اب دیکھنے کو مل رہے ہیں ان کا تصور بھی کبھی نہیں کیا تھا۔‘

’مجھے اپنے کام کے لیے اے آئی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ میرے پاس چیٹ جی پی ٹی کا پیڈ ورژن ہے۔ اس کی قیمت ہانچ ہزار 700 پاکستانی روپے ہے لیکن اس پر وفاقی حکومت کے چار ٹیکس اور پنجاب کا ٹیکس ملا کر وہ مجھے ساڑھے چھ ہزار میں پڑتی ہے۔ اور یہ صرف ایک نہیں سب پیڈ سبسکرپشنز کا یہی حال ہے۔ میں نے تو اپنا نیٹ فلیکس اور سپورٹیفائی بند کروا دیا ہے۔ اتنے فضول پیسے نہیں دیے جاتے۔‘
دوہری کٹوتی کی وجہ سے اصل میں کون پس رہا ہے؟
اعداد و شمار اور رجحانات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل واضح ہے کہ اس ٹیکسیشن کا سب سے بڑا شکار پاکستان کا مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس نوجوان طبقہ ہے۔
اس میں فری لانسرز، ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز، آئی ٹی کے طالب علم اور چھوٹے درجے کے آن لائن کاروباری افراد شامل ہیں۔ ایک نوجوان فری لانسر جو گرافک ڈیزائننگ کے لیے کینوا کا پریمیئم اکاؤنٹ خریدتا ہے یا کوئی کانٹینٹ کری ایٹر جو ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے گوگل ون کی سٹوریج استعمال کرتا ہے، وہ اس غیر منصفانہ ٹیکس کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔
یہ وہ طبقہ ہے جو پاکستان میں باہر سے ڈالر لے کر آ رہا ہے، لیکن اسے اپنے کام کے لیے درکار بنیادی ڈیجیٹل ٹولز خریدنے پر دوہری سزائیں دی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب وہ عام شہری جو دن بھر کی تھکان کے بعد نیٹ فلیکس یا یوٹیوب پریمیم پر کچھ وقت گزارنا چاہتا ہے، وہ بھی اس دوہرے ٹیکس کا شکار ہو رہا ہے۔

عالمی سطح پر ڈیجیٹل ٹیکس کا رواج
رضوان علی بتاتے ہیں کہ ’اگر ہم دوسرے ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کا جائزہ لیں، تو وہاں اس قسم کی دوہری ٹیکسیشن کا کوئی تصور نہیں ہے۔ زیادہ تر ممالک میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس یا گڈز اینڈ سروسز ٹیکس کا ایک مربوط اور واحد نظام رائج ہے۔‘
ان کے مطابق ’وہاں ڈیجیٹل سروسز پر صرف ایک بار ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور پھر حکومت کے اندرونی نظام کے تحت وہ رقم مرکز اور ریاستوں کے درمیان تقسیم ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر یورپی ممالک اور آسٹریلیا میں ڈیجیٹل ایپس پر ایک ہی بار مقررہ ٹیکس لیا جاتا ہے اور صارف کو رسید پر بالکل واضح ہوتا ہے کہ اس نے کتنی رقم سروس کی مد میں دی اور کتنی ٹیکس کی مد میں۔ پاکستان میں وفاق کی جانب سے ٹیکس کے ساتھ ساتھ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، بینک چارجز، اور پھر اوپر سے صوبائی سیلز ٹیکس نے پورے نظام کو پیچیدہ اور صارف دشمن بنا دیا ہے۔‘
اس صورتحال پر پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر اور متعلقہ تنظیموں نے خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن جسے پاشا کے نام سے جانا جاتا ہے، اور دیگر ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے بارہا حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے۔













