Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر کمیٹی قائم کر دی، کارروائی روک دی گئی

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں واقع ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کے معاملے پر اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
 جمعے کو وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ارکان میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری بھی کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
کمیٹی اگلے ہفتے کے دوران پورے معاملے کا جائزہ لے کر وزیراعظم کو جامع رپورٹ پیش کرے گی۔
بیان کے مطابق ’اس دوران کوئی بھی متاثرہ شخص اپنے معروضات کمیٹی کو پیش کرے سکے گا اور کمیٹی بلا کسی تفریق کے فریقین اور متاثرین کو سنے گی۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر وزیراعظم کی جانب سے حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔‘
خیال رہے ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ جس کو ’گرینڈ حیات بلڈنگ‘ بھی کہا جاتا ہے، کو خالی کروانے کے لیے انتظامیہ نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ’کارروائی‘ کا آغاز کیا تھا اور اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری پہلے کنونشن سینٹر میں جمع ہوئی اور پھر کچھ دیر بعد سرینا ہوٹل کے قریب واقع ان ٹاورز کی جانب پیش قدمی کی۔

انتظامیہ نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب عمارت کو خالی کرانے کے لیے ’کارروائی‘ کا آغاز کیا تھا (فوٹو: اردو نیوز)

اس موقعے پر موجود پولیس حکام نے بلڈنگ کے مکینوں کو آگاہ کیا کہ یہ عمارت غیر قانونی قرار دی جا چکی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر خالی کیا جائے۔
انتظامیہ نے رہائشیوں کو ایک دن کی حتمی مہلت دیتے ہوئے وارننگ جاری کی تھی کہ اگر مقررہ وقت کے اندر انخلاء مکمل نہ ہوا تو زبردستی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع یہ ’ٹوئن ٹاورز‘ اپنی تعمیر کے آغاز سے ہی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔
اس منصوبے کا آغاز سنہ 2004،5 میں ہوا جب سی ڈی اے نے بی این پی گروپ کو ہوٹل کی تعمیر کے لیے یہ پلاٹ لیز پر دیا تھا۔ 
بلڈنگ کا ڈھانچہ سنہ 2008 سے سنہ 2015 کے درمیان مکمل ہوا، تاہم ہوٹل کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس کی فروخت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے نے سنہ 2016 میں اس کی لیز منسوخ کر دی تھی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں (فوٹو: پی آئی ڈی)

سال 2019-20 میں سپریم کورٹ نے عوامی سرمایہ کاری کے تحفظ کے پیشِ نظر بلڈنگ کو گرانے کے بجائے ریگولرائز کرنے کا حکم دیا اور ڈویلپر پر ساڑھے 17 ارب روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا، جو اقساط میں ادا کرنا تھا۔ 
اس بلڈنگ میں پاکستان کی اہم ترین شخصیات، بشمول سینیئر سیاست دانوں، سابق ججز، اور اعلیٰ سول و فوجی بیوروکریٹس کے اپارٹمنٹس ہونے کی اطلاعات بھی رہی ہیں۔
سی ڈی اے کی جانب سے بلڈنگ کی لیز منسوخ کرنے کا فیصلہ ڈویلپر کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جہاں طویل عرصہ یہ معاملہ زیرِ سماعت رہا۔
تاہم لیز کے معاملات پر حالیہ عدالتی فیصلہ انتظامیہ کے حق میں آنے اور ڈویلپر کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی پر ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے نے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب رات گئے ہونے والی اس اچانک کارروائی نے مکینوں میں بے چینی پیدا کی اور سوشل میڈیا پر بھی اس کے بارے میں کافی بحث دیکھنے میں آئی۔

شیئر: