سخاوت، کافی، اور تیر اندازی، درعیہ سیزن میں سعودی روایات کا جشن
سخاوت، کافی، اور تیر اندازی، درعیہ سیزن میں سعودی روایات کا جشن
جمعرات 8 جنوری 2026 11:18
درعیہ سیزن میں ’منزال‘سماجی اصول اور روایتی آداب اہمیت کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت خیمے لگائے گئے ہیں جہاں لوگوں کو مقامی طور پر ’سلوم العرب‘ سکھایا جاتا ہے اور کیمپ فائر کے گرد کافی پینے، کھانے اور ستارے دیکھنے کے لیے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ’سلوم العرب‘ ان غیر تحریری اصولوں اور روایات کو کہتے ہیں جو صدیوں سے عرب اور صحرائی معاشرے میں رائج ہیں، جیسے سخاوت، کافی بنانا، ہمت اور تیر اندازی۔
سعودی عرب میں یہ روایات ثقافتی شناخت اور مذہبی عقائد کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔
رواں برس چمڑے کی مصنوعات اور چمڑے کے سامان کی تیاری منزال میں پیش کیے جانے والے ہنروں میں سے ایک ہے اور یہ مملکت میں آج بھی رائج قدیم ترین ہنروں میں شمار ہوتا ہے۔
چمڑے کی تربیت یافتہ ٹرینر اور ہنر مند ندا ثمن نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’سب سے مشکل کام جس پر مجھے کام کرنا پڑا وہ اونٹ کے چمڑے کا تھا کیونکہ یہ تھوڑا سخت ہوتا ہے۔‘
ثمن نے بتایا کہ ورکشاپس میں حصہ لینے والوں کو ورثہ محفوظ کرنے اور عملی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
کافی مملکت میں سب سے زیادہ پینے والے مشروبات میں سے ایک ہے (فوٹو: عرب نیوز)
منزال جو کئی سالوں سے منعقد ہو رہا ہے، ہر سیزن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ایسی سرگرمیاں پیش کرتا ہے جو صحرا نشینوں کی اقدار، روایتی ہنر اور کھیلوں کو اجاگر کرتی ہیں۔ تیر اندازی ایک اہم سرگرمی ہے اور عرب اور اسلامی تاریخ میں اس کی گہری جڑوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
محمد الشريف جو سعودی تیر اندازی فیڈریشن کے ساتھ 2028 سے سرٹیفائیڈ کھلاڑی اور کوچ ہیں نے بتایا کہ ’یہ کھیل سعودی ثقافت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس کی ترغیب پیغمبر اسلام نے دی جس کی وجہ سے لوگ اسے نسل در نسل سیکھتے اور سکھاتے آئے ہیں۔‘
محمد الشريف نےکہا کہ ’ہماری روایتی کمان عرب ثقافت میں سب سے اہم اور زیادہ استعمال ہونے والی کمانوں میں شمار کی جاتی ہے۔ پیشہ ور تیر انداز روایتی کمان پر مہارت رکھتے ہیں۔۔۔ تیر اندازی کی مختلف اقسام ہیں، جیسے گھڑ سوار تیر اندازی اور کھڑے ہو کر کی جانے والی تیر اندازی۔ کمان کے سائز مخصوص ضروریات کے مطابق بدلتے ہیں جیسے شکار کے لیے استعمال ہونے والی اور جنگ کے دوران استعمال ہونے والی کمانیں۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ تاریخی طور پر تیر اندازی روزمرہ زندگی کا حصہ تھی جسے حفاظت اور شکار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
درعیہ سیزن ثقافتی اور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے (فوٹو: عرب نیوز)
کافی مملکت میں سب سے زیادہ پیے جانے والے مشروبات میں سے ایک ہے اور مہمان نوازی اور سخاوت کی علامت ہے۔
احمد الشعیبی نے بتایا کہ یہاں سلوم کے خیمے میں پہلے کافی کے دانوں کو بھونا جاتا ہے اور پھر انہیں ٹھنڈا کرکے پیسا جاتا ہے۔ یہ سب نئی نسل کو سکھانے کے لیے کرتے ہیں۔
’کافی ہمارے بڑوں سے ہمیں منتقل ہوئی ہے، اہم مجالس میں آپ دیکھیں گے کہ وہ ہماری مقامی کافی پیش کرتے ہیں اور کسی اور قسم کی نہیں۔ ہم نے یہ کونا اس لیے بنایا ہے تاکہ نوجوان نسل یہاں آ کر سیکھ سکے۔‘