’سعودی ثقافت اور آثارِ قدیمہ کے خزانے‘ ہر فریم میں مملکت کی جھلک محفوظ
محمد بابلی، کنسلٹنٹ انجینیئر لیکن شوق کی بات کریں تو فوٹو گرافر ہیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)
آج سے بہت پہلے جب سعودی عرب کے ثقافتی اور آثارِ قدیمہ کے خزانوں سے دنیا بے خبر تھی، محمد بابلی میں قدیم زمانے کے ان چھپے ہوئے آثار کو لوگوں کے سامنے لانے کی جبلت پروان چڑھ رہی تھی۔
محمد بابلی، پیشے کے اعتبار سے کنسلٹنٹ انجینیئر لیکن شوق کی بات کریں تو فوٹو گرافر ہیں۔ ان کا وژوئل دستاویز سازی کا سفر چھوٹی عمر سے شروع ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک پبلشنگ پروجیکٹ میں تبدیل ہوگیا۔
محمد بابلی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ’مجھے پہلا کیمرہ اپنے والد سے تحفے میں 1978 کی گرمیوں میں اس وقت ملا جب ہم قبرص جا رہے تھے۔ تب سے اب تک فوٹو گرافی اور سفر ساتھ ساتھ ہی چلتے رہے ہیں۔‘
چھوٹی عمر میں ہی کیمرے سے تصویریں بناتے بناتے، انہیں عادت پڑ گئی کہ ہر مقام کو کیمرے کے لینز سے ہی دیکھنا شروع ہوگئے۔ سنہ 1990 کے اوائل میں انھوں نے دنیا بھر میں اپنے ساتھیوں اور جاننے والوں کے ساتھ ریاض کے گرد و نواح کو فوٹو گرافی کے لیے چُن لیا اور یہاں کے لینڈ سکیپ کو دستاویزی بنانے کا کام شروع کر دیا جو اس زمانے میں کوئی نہیں کرتا تھا۔
نوے کی دہائی میں ان کی دلچسپی اس وقت اور بڑھ گئی جب انھوں نے آسٹریلیا کے ایک فوٹوگرافر کے ساتھ مل کر کچھ کتابوں کے لیے کام کیا جن میں سعودی عرب کے قدرتی ماحول پر توجہ مرکوز تھی۔

’جب میں واپس پہنچا تو میرے پاس کچھ اچھی تصویریں تھیں اور میں یہ فیصلہ بھی کر چکا تھا کہ میں مدائن صالح، العلا اور حجاز ریلوے سے متعلق کتاب پر بھی کام کروں گا۔‘
’مدائن صالح‘ پر کام پانچ برس میں مکمل ہوا جسے سنہ 2023 میں شائع کیا گیا۔ اس کتاب کے مواد پر تحقیق میرے بھائی ابراہیم نے کی۔ یہ پہلی ایسی کتاب تھی جس میں ایک ہی جِلد میں الحجر، العلا اور تاریخی ریلوے سٹیشن پر وژوئل کام کو دستاویزی شکل دی گئی تھی۔‘
اس کتاب کی وجہ سے سنہ 2008 میں ریاض کے ’ڈیزرٹ پبلشر‘ کی بنیاد پڑی جو مملکت کے بارے میں اعلٰی کوالٹی کی وژوئل پبلیکیشنز پر کام کرتا ہے۔
محمد بابلی نے بتایا کہ ’اشاعتی ادارے کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کا، سعودی صحرا اور میراث سے مضبوط بندھن ہے اور یہ ایسا موضوع ہے جو اس ادارے کی دیگر کتابوں اور ڈیزائن میں واضح نظر آتا ہے۔‘

’سعودی عرب‘ کے نام سے سنہ 2007 میں شائع ہونے والی کتاب، پڑھنے والوں کو مملکت کے ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جس میں شہروں، روایات، فنِ تعمیر، افراد، میراث، مذہب، قدیم آٰثار، فطرت اور روز مرہ کی زندگی کو شامل کیا گیا ہے۔
جو چیز اس کتاب کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس میں مختلف زبانوں کا فارمیٹ ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن چار زبانوں میں شائع ہوا تھا جن میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن اور سپین کی زبانیں تھیں اور اس کا مقصد بین الاقوامی صارفین تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
’مجھے بچپن ہی سے مشرق و مغرب کے مختلف ممالک کے سفر کرنے کا موقع ملا۔ یورپ، خصوصاً جرمنی میں مجھے ثقافتی کتابیں ملِیں جو کم از کم تین زبانوں میں تھیں۔ میرا مقصد دیکھنے یا پڑھنے والوں کو سعودی عرب کی ایک خوبصورت تصویر دکھانا تھا جس میں ان کی زبان میں درست معلومات ہوں تاکہ وہ اس سے لطف اٹھا سکیں اور سیکھ سکیں۔‘

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، محمد بابلی کی کتابیں نو زبانوں تک پہنچ گئیں جن میں عربی، انگریزی، فرانسیسی، جرمنی، ہسپانوی، روسی، چینی، جاپانی اور کوریائی زبانیں شامل تھیں۔
چنانچہ یہ کتابیں دیگر ممالک میں سعودی عرب کے سفارت خانوں، بین الاقوامی کانفرنسوں اور اہم عالمی تقاریب کے لیے ایک فطری انتخاب کی شکل اختیار کر گئیں جن میں سینگال، سپین اور چین میں ایسکپو شہنگائی بھی ہیں۔
سنہ 2019 میں سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ان کی کئی کتابیں سعودی قومی دن کے موقع پر دنیا بھر میں مملکت کے ڈپلومیٹک مشنز میں تقسیم کیں۔
محمد بابلی کے مطابق ’جب سے میں نے تصویریں بنانی شروع کیں، میری فوٹو گرافی میں بتدریح ترقی ہوتی گئی۔ مجھے یاد ہے میں نے نیگیٹو فلم کے ساتھ کام شروع کیا تھا۔ جب میں نے سپین کے الحمرا محل کے دورے پر پہلی بار پوزیٹو فلم استعمال کی تو مجھے کامیابی نہیں ہوئی۔‘

’ میں نے مینیوئل فلم کیمروں سے آغاز کیا، پھر سلائڈ فوٹوگرافی کی اور اس کے بعد میڈیم فارمیٹ سسٹم پر آیا اور بالاخر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو اختیار کر لیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ جب ’ڈیجیٹل کیمرے مارکیٹ میں آئے تو میں نے ان میں سے بہترین کیمرہ استعمال کرنا شروع کیا اور پھر فلم والے کیمروں کی طرف دوبارہ کبھی نہیں گیا۔‘
ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود بابلی کو یقینِ کامل ہے کہ صرف آلات، کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔’سب سے اہم پہلو فوٹو گرافر کی آنکھ ہے۔‘ نوجوان فوٹو گرافرز کے لیے ان کا پیغام ہے کہ انھیں جو بھی دستیاب ہو اس سے شروع کریں اور جوں جوں ان کا علم بڑھے، آلات کو اپ گریڈ کر لیں۔
محمد بابلی کا سب سے پُرعزم پروجیکٹ ’سعودی عرب کا زمانۂ قدیم ہے۔‘ یہ پروجیکٹ سنہ 2009 میں شروع ہوا جسے مکمل ہونے میں پندرہ سال لگے۔ اس پروجیکٹ کے آخری مراحل میں کلچرل ڈیویلیپمنٹ فنڈ کا تعاون بھی شامل ہے۔
گزشتہ برس ستمبر میں شائع ہونے والی یہ کتاب سعودی عرب کے آثارِ قدیم کے ورثے کو ترتیب اور مرحلہ وار انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کی تقریبِ رونمائی ریاض انٹرنیشنل بُک فیئر میں کی گئی۔
384 صفحات پر مشتمل یہ کتاب، مملکت بھر سے قدیم آثار کو دستاویزی شکل دیتی ہے جس میں پتھر کا زمانہ بھی ہے، جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی کے ابتدائی آثار بھی ہیں اور سنہ 1950 کے عشرے میں سعودی عرب کا متحد ہونا بھی ہے۔
اس کتاب میں نامور دانشوروں اور آثارِ قدیمہ کے سپیشلسٹس کی کاوشیں بھی ہیں جن میں جامعات کے پروفیسر اور عجائب گھروں کے سابق ڈائریکٹر شامل ہیں۔
ان میں سے کچھ افراد تو آثارِ قدیمہ کی کھدائی میں شریک بھی رہے ہیں۔یوں نہ صرف کتاب کا مواد انتہائی درست ہے بلکہ سیاق و سباق کی وجہ سے تصویریں بھی آثارِ قدیم کی سائٹس سے مربوط ہیں۔
’ہم نے تیرہ ملین سال پہلے جزیرہ نمائے عرب میں قدیم انسان کی آمد سے کام کا آغاز کیا۔ اس کتاب میں پتھر کے زمانے، پرانی تہذیبوں، قدیم عرب سلطنتوں، اسلامی عہد اور سعودی ریاست کے بارے میں بھی معلومات موجود ہیں۔‘
ماہرین نے کتاب میں آرٹ اور وژوئل داستان گوئی کو خوبصورت امتزاج بخشا ہے اور اس میں تعلیمی ریفرنس بھی ہیں اور تصویریں بابلی کے وسیع تصویری خزانے سے حاصل کی گئی ہیں۔
’میں ہر موقع پر جتنی بھی چیزوں کی تصویریں بنا سکتا تھا وہ بنائیں۔ کتاب کے لیے تصویروں کا انتخاب ڈاکٹر عواد الزہرانی اور عبدالعزیز العمرانی نے مشترکہ طور پر کیا تاکہ موضوع کی بہترین نمائندگی ہو سکے۔
اگرچہ محمد بابلی کا بیشتر کام سعودی عرب کی میراث کے ارد گرد گھومتا ہے لیکن ان کی ایک کتاب بالکل مختلف ہے۔یہ کتاب فلسطین میں مسجدِ العقصٰی کے ساتھ منسوب ہے۔ اسے سنہ 2017 میں شائع کیا گیا جس میں بین الاقوامی سکالرز اور فوٹو گرافرز نے باہمی تعاون کے ساتھ کام کیا ہے۔
محمد بابلی کہتے ہیں ’اپنی کتابوں کو عالمی صارفین تک پہنچتے دیکھنا اور سرکاری تقاریب میں ان پر توجہ مبذول ہونا بہت معنی رکھتا ہے۔ اس سے بڑی اور کیا کامیابی ہوگی؟‘
انھیں یقین ہے کہ فوٹو گرافی کے ذریعے مقامات اور تاریخ کو دستاویزی شکل دینا ایک ذمہ داری، روایت اور پختہ اعتقاد کی بات ہے ’لیکن میرے فلسلفے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔‘
