پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازیں، ’ایسا قدم جو فاصلے مٹائے گا‘
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازیں، ’ایسا قدم جو فاصلے مٹائے گا‘
جمعہ 9 جنوری 2026 5:41
زین علی -اردو نیوز، کراچی
جنوری میں بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن بیمان ایئر ڈھاکہ سے کراچی کے لیے براہ راست پروازوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا فضائی اعلان ہے، لیکن دونوں ملکوں کے عوام کے لیے اس کی اہمیت محض سفر تک محدود نہیں۔ یہ فیصلہ کئی دہائیوں کے تعطل کے بعد سامنے آیا ہے اور اسے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان عوامی روابط کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ طویل عرصے سے معطل تھا۔ اس دوران دونوں ملکوں کے شہریوں کو ایک دوسرے کے ہاں پہنچنے کے لیے کسی تیسرے ملک کا راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ دبئی، دوحہ، کولمبو یا کوالالمپور کے ذریعے یہ سفر نہ صرف وقت طلب تھا بلکہ مالی طور پر بھی عام آدمی کے لیے مشکل بن چکا تھا۔ براہ راست پروازوں کی بحالی اس خلا کو پر کرنے کی ایک عملی کوشش ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں علاقائی روابط اور عوامی سطح پر روابط کی اہمیت پر دوبارہ زور دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی تاریخ پیچیدہ رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان عوامی، تجارتی اور ثقافتی روابط کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی ہے۔
اس اقدام سے سب سے زیادہ فائدہ عام شہریوں کو ہونے کی توقع ہے۔ وہ خاندان جن کے رشتے سرحدوں کے آر پار بٹے ہوئے ہیں، برسوں سے ایک دوسرے سے ملنے کے لیے طویل اور مہنگے سفر پر مجبور تھے۔ اب ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہ راست پرواز ان کے لیے سفر کو نہ صرف آسان بنائے گی بلکہ جذباتی طور پر بھی ایک بڑی سہولت فراہم کرے گی۔
کراچی کے رہائشی محمد عمران چند ماہ قبل ہی اپنی والدہ کے ساتھ بنگلہ دیش میں اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کر کے آئے ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بزرگ شہریوں کے لیے طویل ٹرانزٹ اور متعدد پروازیں ایک جسمانی اور ذہنی مشقت بن چکی تھیں، یہ سہولت خاص طور پر اہم ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی ام کلثوم پیشے کے اعتبار سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ان کی والدہ کے خاندان بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ اور باریسال میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقی پاکستان کے موجودہ پاکستان سے علحیدہ ہونے کے بعد ان کے گھر والے پاکستان میں ہی رہے جبکہ ان کے خاندان کے کئی افراد مشرقی پاکستان میں ہی مقیم رہے۔
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والدین ماضی کی یادیں تازہ کر کے اکثر قصے کہانیاں سناتے ہیں۔ کئی برس گزر جانے کے بعد اب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے ہیں، ویزہ پالیسی میں نرمی دیکھی جارہی ہے اور اب براہ راست پروازوں کا سلسلہ شروع ہونے جارہا ہے، ایسے میں ان کی والدہ اور کلثوم بنگلہ دیش اپنے رشتے داروں سے ملنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ہارون شمسی کے مطابق کاروباری تعلقات صرف معاہدوں سے مضبوط نہیں ہوتے بلکہ براہ راست رابطوں اور اعتماد سے پروان چڑھتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی))
اسی طرح طلبہ، مریضوں اور وہ افراد جو مختصر دورانیے کے لیے سفر کرنا چاہتے ہیں، براہ راست پرواز سے نمایاں فائدہ اٹھا سکیں گے۔
تجارتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کی معیشتوں میں ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، دواسازی اور لائٹ انجینئرنگ جیسے شعبے نمایاں ہیں۔ براہ راست فضائی رابطے سے کاروباری وفود کی آمدورفت آسان ہوگی، جس سے دو طرفہ تجارت کو فروغ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ٹیکسٹائل شعبے سے وابستہ سابق چیئرمین ٹاول مینوفیکچرز ایسوسی ایشن محمد ہارون شمسی کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کا ٹیکسٹائل سمیت متعدد شعبوں میں کاروبار گزشہ کچھ عرصے میں بہت بڑھ گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کاروباری تعلقات صرف معاہدوں سے مضبوط نہیں ہوتے بلکہ براہ راست رابطوں اور اعتماد سے پروان چڑھتے ہیں۔ براہ راست پروازیں اس اعتماد کی تعمیر میں مدد دے سکتی ہیں، کیونکہ اب کاروباری شخصیات کو مختصر دوروں کے لیے طویل منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے محقق اور نجی جامعہ کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے سے وابستہ محمد فاروق سمیع نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بھی اس فیصلے کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ ڈھاکہ اور کراچی دونوں بڑے تعلیمی مراکز ہیں، جہاں ہزاروں غیر ملکی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ براہ راست پروازوں سے تعلیمی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور اکیڈمک تعاون کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت نہ صرف مالی لحاظ سے فائدہ مند ہوگی بلکہ وقت کی بچت کا سبب بھی بنے گی۔
براہ راست پروازوں کا آغاز ایک انتظامی فیصلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک علامتی قدم بھی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق طبی سہولیات کے حوالے سے بھی یہ پیش رفت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں شہروں میں بڑے ہسپتال اور طبی مراکز موجود ہیں، جہاں علاج کے لیے دوسرے ملک سے آنے والے مریضوں کی تعداد محدود مگر مستقل رہی ہے۔ براہ راست پروازوں سے طبی سفر آسان ہوگا، جو خاص طور پر ہنگامی حالات میں اہمیت رکھتا ہے۔
29 جنوری کو جب بیمان ایئر کی پرواز ڈھاکہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوگی تو یہ محض ایک طیارے کی اڑان نہیں ہوگی۔ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ برسوں کے تعطل کے بعد دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آنے کی عملی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت بتدریج سہی، مگر ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ماضی کے بوجھ سے ہٹ کر مستقبل کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں براہ راست پروازوں کا آغاز ایک انتظامی فیصلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک علامتی قدم بھی ہے، ایسا قدم جو فاصلے کم کرنے، روابط بحال کرنے اور عام لوگوں کی زندگی کو قدرے آسان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔