Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش کی انڈین شہریوں پر ویزوں کی پابندیاں، ’کشیدہ حالات کے تناظر میں فیصلہ‘

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق ’صرف انڈین کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد کو ویزے دیے جا رہے ہیں‘ (فائل فوٹو: فِری پِک)
بنگلہ دیش نے انڈین شہریوں کے لیے ویزہ کے اجرا پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں اور اِن کا دائرہ کولکتہ، ممبئی اور چنئی میں قائم اپنے ڈپٹی ہائی کمیشنز تک بڑھا دیا ہے۔
اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بدھ کی رات اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ پابندیاں جمعرات سے نافذ ہو گئی ہیں۔‘
بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تازہ اقدامات کے تحت کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد کے ویزوں کے علاوہ ہر قسم کے ویزے معطل کر دیے گئے ہیں۔‘
’کولکتہ میں واقع بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن میں قونصلر اور ویزہ خدمات مکمل طور پر روک دی گئی ہیں، جبکہ ممبئی اور چنئی میں انڈین شہریوں کے لیے سیاحتی اور دیگر ویزوں کی خدمات بھی معطل کر دی گئی ہیں۔‘
بنگلہ دیش میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سکیورٹی خدشات کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل گذشتہ برس 22 دسمبر کو بنگلہ دیش نے نئی دہلی میں واقع اپنے ہائی کمیشن، تریپورہ کے شہر اگرتلہ میں اسسٹنٹ ہائی کمیشن اور سلی گڑی میں واقع ویزہ سینٹر میں ویزہ کے اجرا اور قونصلر خدمات کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
آسام کے شہر گوہاٹی میں قائم مشن میں بھی قونصلر خدمات روک دی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں انڈیا میں بنگلہ دیشی ویزوں کا اجرا اب چند مخصوص کیٹیگریز تک محدود ہو گیا ہے۔
کولکتہ میں بنگلہ دیشی ڈپٹی ہائی کمیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق ’یہ اقدام اعلٰی حکام کی ہدایات پر کیا گیا ہے اور اس وقت صرف کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد کو ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔‘
اُدھر انڈیا کی ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ممبئی میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
بدھ کو وشوا ہندو پریشد کے قریباً 150 حامی مشن کے قریب جمع ہوئے اور بنگلہ دیش کے خلاف نعرے لگائے۔اطلاعات کے مطابق اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے ممبئی میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا (فائل فوٹو: اے پی)

اس سے قبل انڈیا نے 5 اگست 2024 کے بعد سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزے کی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی کا شکار ہیں۔
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے والی طلبہ تحریک کے اہم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ آگیا۔
ڈھاکہ پولیس کے حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’شریف عثمان ہادی کے قاتل 12 دسمبر کو ہی انڈیا فرار ہو گئے تھے۔‘   
چند روز قبل انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)  کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو نکال دیا۔
کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایت پر مستفیض الرحمان کو نکالا گیا۔
اس کے بعد بنگلہ دیش کرکت بورڈ نے اعلان کیا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے انڈیا نہیں بھیجے گا، لہٰذا بنگلہ دیشی ٹیم کے میچز کسی اور ملک منتقل کیے جائیں۔

شیئر: