انڈیا کے خلائی ادارے اسرو (آئی ایس آر او) کے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کو لانچ کے دوران تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث یہ مشن تیسرے مرحلے میں ناکام ہو گیا ہے۔
فرسٹ پوسٹ کے مطابق پیر کو یہ راکٹ سری ہری کوٹا کے ’ستیش دھون سپیس سینٹر‘ سے لانچ کیا گیا تھا۔
یہ لگاتار دوسرا ایسا موقع ہے جب پی ایس ایل وی راکٹ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اس سے قبل مئی میں بھی ’اسرو‘ کا ایک ’پی ایس ایل وی‘ مشن مکمل نہیں ہو سکا تھا۔
مزید پڑھیں
-
اسرو نے جدید ترین جی سیٹ چھوڑ دیاNode ID: 356116
-
انڈیا کے خلائی ادارے ’اسرو‘ کے سائنسدان کو قتل کر دیا گیاNode ID: 436291
تیسرے مرحلے میں ناکامی
’پی ایس ایل وی‘ راکٹ پیر کی صبح 10 بج کر 17 منٹ پر لانچ ہوا اور اس نے پہلے دو مراحل کامیابی سے مکمل کیے جبکہ سٹیج سیپریشن بھی درست طریقے سے ہوئی۔ تاہم ٹیک آف کے تقریباً آٹھ منٹ بعد راکٹ تیسرے مرحلے میں ناکام ہو گیا۔
’اسرو‘ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ایس ایل وی-سی 62 مشن کو پی ایس تھری مرحلے کے اختتام پر ایک تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی تفصیلی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔‘
مشن میں شامل سیٹلائٹس
یہ مشن ’پی ایس ایل وی ڈی ایل ویرینٹ‘ کے ذریعے انجام دیا جا رہا تھا جو اضافی طاقت کے لیے دو سالڈ سٹریپ آن موٹرز سے لیس ہوتا ہے۔
راکٹ ’ای او ایس این ون‘ نامی جدید ارتھ آبزرویشن (زمین کا مشاہدہ کرنے والے) سیٹلائٹ لے جا رہا تھا جسے ’انویشا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سیٹلائٹ ’ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن‘ (ڈی آر ڈی او) نے تیار کیا تھا اور اس میں جدید ہائپر سپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی نصب تھی جو ہر پکسل میں بنیادی رنگوں کے ساتھ سینکڑوں روشنی کی لہروں کو محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ مشن میں مزید 16 چھوٹے سیٹلائٹس بھی شامل تھے۔ ان میں سپین کے ایک سٹارٹ اپ کا تیار کردہ ’کیسٹرل انیشل ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریٹ‘ ( کے آئی ڈی) شامل تھا، جو ایک ری انٹری وہیکل کا چھوٹا پروٹوٹائپ تھا اور جسے زمین کے ماحول میں واپس آ کر جنوبی بحرالکاہل میں لینڈ کرنا تھا۔
مشن میں حیدرآباد کے سٹارٹ اپ ’ٹیک می ٹو سپیس‘ اور ’ای اون سپیس لیبز‘ کے سیٹلائٹس، برازیل کے پانچ سیٹلائٹس، برطانیہ اور تھائی لینڈ کا ایک ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ اور نیپال کا ایک ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن سیٹلائٹ بھی شامل تھا۔
The PSLV-C62 mission encountered an anomaly during end of the PS3 stage. A detailed analysis has been initiated.
— ISRO (@isro) January 12, 2026
سب سے نمایاں سیٹلائٹ ’آئول سیٹ‘ تھا جسے بنگلورو کے سٹارٹ اپ ’اوربٹ ایڈ ایئرو سپیس‘ نے تیار کیا تھا۔ اسے ’خلا میں پٹرول پمپ‘ کا تصور دیا جا رہا تھا جس کا مقصد مستقبل میں خلا میں موجود سیٹلائٹس کو ایندھن فراہم کرنے کی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنا تھا۔ ’اسرو‘ کا منصوبہ تھا کہ تمام سیٹلائٹس کو سورج سے ہم آہنگ پولر مدار میں داخل کیا جائے۔
’ایم او آئی ون‘ سیٹلائٹ میں ایک جدید مدار میں کام کرنے والی اے آئی امیج پروسیسنگ لیب نصب تھی، جو ڈیٹا کو زمین پر بھیجنے کے بجائے خلا میں ہی پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اسے ’سپیس سائبر کیفے‘ سے تشبیہ دی جا رہی تھی، جہاں صارفین تقریباً 180 روپے فی منٹ کے حساب سے خلا میں کمپیوٹنگ وقت حاصل کر سکتے تھے۔ اس سیٹلائٹ میں دنیا کی سب سے ہلکی خلائی دوربین ’میرا‘ بھی شامل تھی، جس کا وزن تقریباً 502 گرام بتایا گیا ہے۔
راکٹ میں کیا خرابی پیش آئی؟
’اسرو‘ کے مطابق ’ستیش دھون سپیس سینٹر‘ سے راکٹ کی روانگی معمول کے مطابق تھی تاہم تیسرے مرحلے کے دوران راکٹ اپنے طے شدہ راستے سے ہٹنے لگا۔ ’اسرو‘ نے بتایا ہے کہ اس وقت فلائٹ ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے تاحال مشن کو باضابطہ طور پر کامیاب یا ناکام قرار نہیں دیا۔
Liftoff!
PSLV-C62 launches the EOS-N1 Mission from SDSC-SHAR, Sriharikota.
Livestream link: https://t.co/fMiIFTUGpf
For more information Visit:https://t.co/3ijojDaYB2
#PSLVC62 #EOSN1 #ISRO #NSIL— ISRO (@isro) January 12, 2026












