’امریکیوں کو دھوکہ دینے والے‘ تارکین کی شہریت منسوخ ہو گی: ٹرمپ
’امریکیوں کو دھوکہ دینے والے‘ تارکین کی شہریت منسوخ ہو گی: ٹرمپ
بدھ 14 جنوری 2026 6:01
صدر ٹرمپ اس سے قبل کئی ممالک کے پاسپورٹس پر امریکہ کے سفر پر پابندی لگا چکے ہیں (فوٹو: اے پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ صومالیہ یا کسی بھی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکین وطن کی شہریت منسوخ کرنے جا رہی ہے جنہوں نے ’ہمارے کسی شہری کو دھوکہ دیا ہو۔‘
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کو ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں جنہوں نے ہمارے شہریوں کو دھوکہ دیا ہو اور اس میں انہیں سزا ہوئی ہو۔ ایسے لوگوں کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔‘
دوسری بار امریکہ کی صدارت سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم کے دوران بھی ایسے بیانات دیے تھے جن سے عیاں تھا کہ ان کا دور تارکین وطن کے لیے زیادہ خوشگوار نہیں ہو گا اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔
انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد کئی ممالک کے شہریوں کے امریکہ کے سفر پر پابندی لگائی جس میں اس فائرنگ کے واقعے کے بعد تیزی آئی جو وائٹ ہاؤس کے قریب پیش آیا تھا۔
خیال رہے کہ دسمبر کے اواخر میں امریکی انتظامیہ نے سفری پابندیوں کی فہرست میں مزید پانچ ممالک کو شامل کیا تھا جبکہ بعض دیگر ممالک کے لیے ویزے کی شرائط مزید سخت کی گئیں۔
اسی طرح جون میں صدر ڈونلڈ نے اعلان کیا تھا کہ 12 ممالک کے شہری امریکہ کا سفر نہیں کر سکیں گے جبکہ سات ممالک کے شہریوں کو پابندیوں کا سامنا ہو گا۔
اس فیصلے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پچھلے دور کے اقدام کو ایک بار پھر سے بحال کر دیا تھا۔
دسمبر میں امریکی انتظامیہ نے سفری پابندیوں کی فہرست میں مزید پانچ ممالک کو شامل کیا تھا (فوٹو: گیٹی امیجز)
اس وقت جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ان میں افغانستان، میانمار، چاڈ، ریپبلک آف کانگو، ایکواٹوریل جونیا، ایریٹیا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل تھے جبکہ بروندی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹاگو، ترکمانستان اور وینزویلا سے آنے والوں کے لیے بھی پابندیاں بڑھائی گئیں۔
نومبر میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ایسے افغان شہری نے نیشنل گارڈز پر فائرنگ کر دی تھی جو افغانستان میں امریکی فوج کے قیام کے دوران اس کے ساتھ کام کرتا رہا اور اسی ’نرم پالیسی‘ کے تحت امریکہ پہنچا تھا جو انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے دوبارہ کنٹرول سنبھالنے پر جاری کی گئی تھی۔
وہ صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ پہنچا تھا اور صدر ٹرمپ کے دور میں اس کو شہریت دی گئی تھی۔
واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے افغانستان کے پاسپورٹ پر امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔