امریکی امیگریشن کی حراست میں 2026 کے 10 روز کے دوران چار تارکین وطن ہلاک
گذشتہ ہفتے آئس کے ایک افسر نے منی سوٹا کی ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 2026 کے ابتدائی 10 روز میں حراست کے دوران چار تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ریکارڈ تعداد میں اموات رپورٹ کی گئی تھیں۔
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو افراد کا تعلق ہونڈوراس، ایک کا کیوبا اور ایک کا کمبوڈیا سے تھا۔ یہ واقعات 3 جنوری سے 9 جنوری کے درمیان پیش آئے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ملک بدری کی رفتار بڑھانے اور حراست میں رکھے گئے افراد کی تعداد میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
7 جنوری تک آئس کے اعدادوشمار کے مطابق 69 ہزار افراد حراست میں تھے، اور یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے کیونکہ گذشتہ سال امریکی کانگریس نے آئس کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ منظور کی تھی۔ 2025 میں کم سے کم 30 افراد آئس کی حراست میں ہلاک ہوئے، جو گذشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔
ڈیٹینشن واچ نیٹ ورک کی ایڈووکیسی ڈائریکٹر ستارہ غندہاری نے اموات کی بلند شرح کو ’انتہائی چونکا دینے والی‘ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ سے حراستی مراکز بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن نے کہا کہ اموات کی شرح تاریخی معیار کے مطابق رہی ہے کیونکہ حراستوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے قیدیوں کے لیے طبی سہولیات سمیت اعلٰی معیار کی دیکھ بھال فراہم کی ہے۔‘
کیوبا کے شہری 55 سال کے جیرالڈو لونس کامپوس 3 جنوری کو ٹیکساس میں فورٹ بلس کے کیمپ ایسٹ مونٹانا میں ہلاک ہوئے۔ آئس کے مطابق انہیں علیحدگی میں رکھا گیا تھا اور بعد میں طبی امداد کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ہونڈوراس کے دو افراد 42 سالہ لوئس گستاوو نونیز کاسیریس اور 68 سالہ لوئس بیلتران یانیز، 5 اور 6 جنوری کو دل کے مسائل کے باعث ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ کمبوڈیا کے شہری 46 سال کے پیراڈی لا 9 جنوری کو منشیات کے شدید اثرات کے باعث فلاڈیلفیا کے فیڈرل ڈیٹینشن سینٹر میں ہلاک ہوئے۔
اس کے علاوہ گذشتہ ہفتے آئس کے ایک افسر نے منی سوٹا کی ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس پر ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔
