Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مملکت کی سلامتی کے لیے خطرہ ’ریڈ لائن‘ ہے جسے ختم کر دیا جائے گا: سعودی سفیر

عبدالعزیز الوصل نے حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا (فوٹو: سپلائیڈ)
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ایک سرخ لکیر ہے اور اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘
عرب نیوز کے مطابق یمن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعزیز الوصل نے کہا کہ ملک کے جنوب میں مسائل کے ’سماجی اور تاریخی پہلو‘ ہیں اور صرف بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی  کوشش سرخ لکیر ہے، اور ہم اس سے نمٹنے اور اسے ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے میں نہیں ہچکچائیں گے۔‘
عبدالعزیز الوصل نے یمنی صدر رشاد العلیمی، صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا تاکہ وہ ملک میں سلامتی، استحکام، ترقی اور امن قائم رکھ سکیں اور قومی اتحاد کو محفوظ رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ دو دسمبر 2025 کو حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی فوجی کارروائی یکطرفہ تھی، اس کی صدارتی کونسل سے منظوری نہیں لی گئی اور نہ ہی اسے یمن میں حکومت کی بحالی کے لیے بنائے گئے اتحاد کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا۔
عبدالعزیز الوصل نے کہا کہ اس کارروائی سے غیر ضروری کشیدگی پیدا ہوئی، یمنی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا، جنوب کے مسائل کے حل کی کوششیں کمزور ہوئیں اور یہ اتحاد کے اہداف اور مقصد کے خلاف تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے اپنے اتحاد کے شراکت داروں، صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کے ساتھ مل کر ایک فوجی دستہ بھیجا تاکہ عدن میں جنوبی عبوری کونسل کے ساتھ تعاون کیا جا سکے۔
عبدالعزیز الوصل کے مطابق اس کا مقصد یہ تھا کہ جنوبی کونسل کی فورسز حضرموت اور المہرہ سے باہر اپنے سابقہ مقامات پر واپس جائیں اور کیمپوں کی حوالگی لیجیٹمیٹ حکومتی فورسز اور مقامی حکام کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہو۔
انہوں نے حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا، جو سعودی عرب کی جنوبی سرحد کے قریب ہوئی، اور کہا کہ یہ براہِ راست سعودی عرب کی قومی سلامتی، یمن کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ تھی۔

عبدالعزیز الوصل نے کہا کہ حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی فوجی کارروائی یکطرفہ تھی (فوٹو: عرب نیوز)

عبدالعزیز الوصل نے کہا کہ ’یہ اقدامات انتہائی خطرناک تھے اور یمن میں قانونی حکومت کو بحال کرنے کے لیے بنائے گئے اتحاد کے اصولوں کے خلاف تھے۔‘
انہوں نے 23 دسمبر کو مسقط میں طے پانے والے قیدیوں اور حراستی افراد کے تبادلے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک اہم انسانی اقدام ہے جو دکھ درد کو کم کرنے اور اعتماد قائم کرنے میں مدد دے گا۔
انہوں نے عمان کی تعریف کی کہ اس نے مشاورت کی میزبانی اور تعاون کیا، اور مذاکرات کی حمایت کی، اور اقوام متحدہ کے یمن کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور دیگر تمام فریقین کی کوششوں کو سراہا۔
سیاسی کوششوں کے حوالے سے عبدالعزیز الوصل نے کہا کہ سعودی عرب یمنی صدر العلیمی کی دعوت کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں انہوں نے یمن کے جنوب میں موجودہ صورتحال کے منصفانہ حل کے لیے تمام فریقین کو اکٹھا کرنے کے لیے ریاض میں ایک جامع کانفرنس کے انعقاد کا کہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یمنی حکومت اور جنوبی نمائندوں کے تعاون سے کانفرنس کی تیاری شروع ہو چکی ہے جو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات اور یمن میں استحکام کے مشترکہ مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔
عبدالعزیز الوصل نے تمام جنوبی فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں فعال اور تعمیری طور پر حصہ لیں تاکہ جامع اور منصفانہ حل تلاش کیا جا سکے جو جنوبی یمن کے عوام کی جائز امنگوں کو پورا کرے۔
انہوں نے تمام یمنی فورسز اور متعلقہ فریقین سے کہا کہ تعاون کریں اور اپنے اقدامات تیز کریں تاکہ ایک دیرپا سیاسی حل تک پہنچا جا سکے جو سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے۔ 

 

شیئر: