یمن کی علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) نے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اپنی تنظیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق جنوبی یمن میں بدامنی کے خاتمے سے متعلق بات چیت کے لیے ایس ٹی سی کے کئی ارکان اس وقت ریاض میں موجود ہیں۔
تنظیم نے یمن میں امن کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا ہے، جبکہ ایس ٹی سی کے سابق سربراہ عیدروس الزبیدی، جو اس وقت صدارتی کونسل کو سنگین غداری کے الزام میں مطلوب ہیں، یمن چھوڑ چکے ہیں اور مذاکرات میں شریک نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں
ایک یمنی ذریعے نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ اعلان اور ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے بیان میں دکھائی دینے والی نرمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ درحقیقت الزبیدی ہی اصل رکاوٹ تھے، جبکہ جنوبی یمن کے بیشتر لوگ بات چیت اور مکالمے کے ذریعے اپنے مسئلے کے حل کے لیے تیار ہیں۔‘
یمن کے ایس ٹی سی کے ارکان نے جمعے کے روز ریاض سدرن ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران خطاب کیا۔
اجلاس کے دوران کونسل نے کہا کہ حضرموت اور المہرہ میں کی گئی فوجی کارروائیوں نے یمن میں جنوبی کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔
کونسل کا کہنا تھا کہ وہ حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیوں کے فیصلے میں شامل نہیں تھی۔
کونسل نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ریاض کانفرنس میں جنوبی مسئلے کے حل کے لیے ایک واضح وژن اور فریم ورک تک پہنچا جا سکے گا۔‘
کونسل نے ریاض میں مذاکراتی کانفرنس کی میزبانی پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یمنی خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق ایس ٹی سی نے کونسل تحلیل کرنے کا اعلامیہ جاری کیا۔

جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی صدارت، اعلیٰ انتظامی قیادت، جنرل سیکریٹریٹ اور دیگر منسلک اداروں کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں حضرموت اور المہرہ کے صوبوں میں حالیہ افسوسناک واقعات اور کشیدگی کم کرنے اور حل کی تمام کوششوں کو مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ان پیش رفتوں کے نتیجے میں سنگین اور تکلیف دہ نتائج سامنے آئے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جنوبی مسئلے کے حل کے لیے جنوبی مکالمے کی سرپرستی سے متعلق جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، اور جنوبی کاز کے مستقبل، جنوبی عوام کے اپنے ریاست کی بحالی کے حق، امن و سماجی استحکام کے تحفظ اور خطے کے امن کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم درج ذیل اعلان کرتے ہیں:
سدرن ٹرانزیشنل کونسل کا قیام جنوبی عوام کے کاز کی نمائندگی، ان کی قیادت اور ان کی خواہشات کے حصول کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کی بنیاد اس یقین کے ساتھ رکھی گئی تھی کہ مقصد اقتدار پر قابض ہونا، فیصلوں پر اجارہ داری قائم کرنا یا دوسروں کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ جنوبی عوام کے جائز حقوق کا حصول ہے۔
چونکہ ہم حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھے، (ایسی کارروائی نے جنوبی اتحاد کو نقصان پہنچایا اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا، جو جنوبی کاز کے لیے مسلسل سیاسی، معاشی اور عسکری قربانیاں دے رہا ہے) اس لیے کونسل کا برقرار رہنا اب اپنے اصل مقصد کو پورا نہیں کرتا۔













