کینیڈا میں بزرگ جوڑے کا قتل، تین انڈین شہریوں کے خلاف مقدمے کا آغاز
کینیڈا میں بزرگ جوڑے کا قتل، تین انڈین شہریوں کے خلاف مقدمے کا آغاز
جمعرات 15 جنوری 2026 8:50
آرنلڈ اور جوآنے ڈی جانگ کے گھر مردہ حالت میں ملنے کے بعد پولیس تفتیش شروع کی تھی (فوٹو: سی بی سی)
کینیڈا میں بزرگ جوڑے کو قتل کرنے کے الزام میں تین انڈین شہریوں کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔
انڈیا ٹوڈے نے کینیڈین میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ برٹش کولمبیا کے علاقے ایبٹس فورڈ میں رہائش پذیر آرنلڈ اور جوآنے ڈی جانگ نو مئی 2022 کو اپنے گھر میں مردہ حالت میں ملے تھے۔
بعدازاں ملزموں کی شناخت گور کرن سنگھ، ابھیجیت سنگھ اور خشویر سنگھ طور کے ناموں سے ہوئی تھی۔
ایبٹس فورڈ کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے موقع پر بتایا گیا ملزموں نے اس سے قبل ایک کلیننگ کمپنی کی وساطت سے جوڑے کے لیے کام بھی کیا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ آٹھ مئی 2022 کو ان کے گھر میں ہونے والی ایک محفل کے بعد دونوں افراد سے فون پر رابطہ نہیں ہو رہا تھا، جس کے بعد ان کے داماد کی اطلاع پر وہاں پولیس پہنچی تھی۔
استغاثہ کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ تینوں مذکورہ انڈین شہریوں نے پیسے کے لالچ میں جوڑے کو قتل کیا۔
سی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ملزموں نے صحت جرم کو ماننے سے انکار کیا ہے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل ڈوروتھی تسوئی نے کہا کہ دستیاب شواہد سے پتہ چلتا ہے تینوں ایک صفائی کمپنی کے لیے کام کرتے تھے اور جولائی 2021 اور اپریل 2022 کے دوران انہوں نے جوڑے کے گھر پر کام کیا تھا۔
انہوں نے گورکرن کے حوالے سے بتایا کہ وہ سٹوڈنٹ ویزے پر اپریل 2020 میں کینیڈا پہنچا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قتل کے فوراً بعد گورکرن اور خشویر نے اپنے بینک اکاؤنٹس میں تقریباً 5000 کینیڈین ڈالر کے چیک جمع کرائے تھے، جن پر مبینہ طور پر جوآنے کے دستخط تھے اور ان کی میمو لائنز میں بتایا گیا تھا کہ وہ ادائیگی گھر کی صفائی کے لیے کی گئی تھی۔
استغاثہ کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ ملزموں نے پیسے کے لالچ میں جوڑے کو قتل کیا (فوٹو: سی بی سی)
انہوں نے بتایا کہ ’دوران تفتیش ڈی جونگز کے لینڈ لائن پر ایسی ریکارڈڈ کال ملی تھی جو کریڈٹ کارڈ پر مشکوک لین دین کے بارے میں تھی، جس کے بعد پولیس نے بینک کا ریکارڈ حاصل کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں افراد کی لاشیں الگ الگ کمروں سے ملی تھیں اور ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔
جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ایک پولیس اہلکار کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرنلڈ ایک کمفرٹر کے نیچے سے ملے تھے اور ان کے منہ پر ٹیپ اس طرح سے لگی ہوئی تھی جس نے ناک منہ اور سر کا پچھلا حصہ ڈھانپ رکھا تھا اور اس کی وجہ سے ان کی سانس بند ہو گئی تھی۔
کرائم سین کا دورہ کرنے والے ایک اور پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جوآنے کی لاش اپنے بیڈ روم میں تھی اور ان کے سر اور گردن پر خون لگا ہوا تھا۔
پراسیکیوٹر ڈوروتھی تسوئی نے عدالت کو بتایا کہ ایک پتھالوجسٹ پیش ہو کر گواہی دیں گے کہ آرنلڈ کی موت دم گھٹنے سے ہوئی جبکہ جوآنے کی موت کسی طاقتور جھٹکے سے ہوئی۔