Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رحیم یار خان میں کامیاب پیچیدہ آپریشن: ’بچے کے اندر بچہ‘ کیا ہوتا ہے؟

پاکستان میں اس نوعیت کے کیسز بہت کم رپورٹ ہوئے ہیں۔ (فوٹو: شٹر سٹاک)
رحیم یار خان کے شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال میں ایک انتہائی نایاب اور پیچیدہ آپریشن کے ذریعے پانچ سالہ بچے کے سینے سے ایک نامکمل جنین نکال لیا گیا۔ 
یہ آپریشن سوموار کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا، جس کے بعد بچے کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔
 
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ آپریشن تھوراسک سرجری ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے انجام دیا، جس کی قیادت ڈاکٹر سلطان اویسی نے کی۔ ڈاکٹر اویسی کے مطابق نامکمل جنین بچے کے دل کی مرکزی شریان کے قریب موجود تھا، جس کے باعث آپریشن غیر معمولی طور پر حساس اور تکنیکی نوعیت کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص اور مربوط ٹیم ورک کی بدولت کسی بڑی پیچیدگی سے بچا لیا گیا اور بچے کی صحت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔
’بچے کے اندر بچہ‘ کیا ہوتا ہے؟
طبی اصطلاح میں اس نایاب کیفیت کو ’فیٹس ان فیٹو‘ کہا جاتا ہے، جسے عام زبان میں ’بچے کے اندر بچہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک پیدائشی خرابی ہے جو حمل کے ابتدائی مرحلے میں جڑواں بچوں کی غیر معمولی نشوونما کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
ماہر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ریحانہ کے مطابق ’بعض اوقات یکساں جینیاتی ساخت رکھنے والے جڑواں بچوں میں ایک جنین مکمل طور پر الگ نشوونما حاصل نہیں کر پاتا اور دوسرے جنین کے جسم کے اندر ہی نشوونما پانے لگتا ہے۔ یہ نامکمل جنین عموماً خود مختار زندگی کے قابل نہیں‘ ہوتا اور میزبان بچے کے جسم پر دباؤ ڈالنے لگتا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر سلطان اویسی کہتے ہیں کہ ’ایسے جنین میں ہڈیوں یا بعض اعضا کے ابتدائی ڈھانچے موجود ہو سکتے ہیں، تاہم دماغ اور دل جیسی بنیادی ساخت مکمل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنین زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘
طبی تحقیق کے مطابق فیٹس ان فیٹو دنیا بھر میں انتہائی نایاب تصور کی جاتی ہے اور اندازاً یہ پانچ لاکھ پیدائشوں میں سے ایک میں سامنے آتی ہے۔ عالمی سطح پر اب تک اس کے دو سو سے کم مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ہر نیا کیس طبی دنیا کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان میں اس سے پہلے کب ایسے کیسز سامنے آئے؟
 
پاکستان میں بھی اس نوعیت کے کیسز بہت کم رپورٹ ہوئے ہیں۔ دو ہزار چھ میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ایک نومولود بچی کے پیٹ سے نامکمل جنین نکالا گیا تھا، جسے ملک کے ابتدائی رپورٹ شدہ کیسز میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح دو ہزار بائیس میں لاڑکانہ اور دو ہزار تئیس میں صادق آباد کے ایک نجی ہسپتال میں بچوں کے جسم سے پرجیوی جنین نکالنے کے واقعات سامنے آئے۔ کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں بھی ماضی میں اس نوعیت کا ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔

طبی اصطلاح میں اس نایاب کیفیت کو ’فیٹس ان فیٹو‘ کہا جاتا ہے، جسے عام زبان میں ’بچے کے اندر بچہ‘ بھی کہا جاتا ہے (فوٹو: وکی میڈیا)

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید تشخیصی سہولیات کی دستیابی کے باعث اب ایسے نایاب امراض کی بروقت نشاندہی ممکن ہو رہی ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ کیفیت اب بھی انتہائی کم پائی جاتی ہے۔
فیٹس ان فیٹو کی تشخیص عموماً پیدائش کے بعد الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین یا دیگر جدید طبی معائنوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ علامات کا انحصار جنین کے سائز اور مقام پر ہوتا ہے، جن میں پیٹ یا سینے کا غیر معمولی ابھار، نظامِ ہاضمہ کے مسائل اور سانس میں دقت شامل ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس کیفیت کا واحد مؤثر علاج جراحی آپریشن ہے، کیونکہ ادویات یا دیگر طریقوں سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ بروقت اور کامیاب آپریشن کے بعد زیادہ تر مریض معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں، تاہم کچھ عرصے تک طبی نگرانی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق رحیم یار خان میں انجام پانے والا یہ آپریشن پاکستان میں طبی مہارت اور سہولیات کی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈاکٹر اویسی کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی پوری ٹیم کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے اور اس سے مستقبل میں ایسے نایاب اور پیچیدہ کیسز سے نمٹنے کے لیے قیمتی تجربہ حاصل ہوا ہے۔

شیئر: