بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ڈائریکٹر ایم ناظم الاسلام کو عہدے سے ہٹا دیا
جمعرات 15 جنوری 2026 11:15
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
بائیکاٹ کی وجہ سے جمعرات کو ہونے والا پہلا میچ کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے (فوٹو: ڈیلی سن)
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے خلاف عوامی سطح پر قابلِ اعتراض بیانات دینے پر اپنے ڈائریکٹر اور فنانس کمیٹی کے چیئرمین ایم ناظم الاسلام کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق جمعرات کو کھلاڑیوں کے بائیکاٹ کے باعث بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے شیڈول دو میچز بھی موخر کر دیے گئے ہیں۔
اس سے قبل بی سی بی ایم ناظم الاسلام کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔
بورڈ کے مطابق ’بورڈ کے متعلقہ رکن کے خلاف باضابطہ تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور ناظم الاسلام کو 48 گھنٹوں کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘
بورڈ کا کہنا ہے تھا کہ ’وضاحت موصول ہونے کے بعد معاملے کا جائزہ لے کر مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘
دوسری جانب کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی) نے ناظم الاسلام کے استعفے تک ملک میں ہر سطح پر کرکٹ کے بائیکاٹ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔ بائیکاٹ کے باعث ڈھاکہ کرکٹ لیگ کے فرسٹ ڈویژن کے چار میچز جمعرات کی صبح شروع نہیں ہو سکے جس پر بی سی بی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ بی سی بی کے بعض ڈائریکٹرز نے بدھ کی شب سی ڈبلیو اے بی کے صدر محمد متھن سے رابطہ کر کے یہ پیشکش کی کہ ناظم الاسلام کو فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، تاہم متھن کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کا مطالبہ بدستور برقرار ہے اور استعفے کے بغیر بائیکاٹ ختم نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بدھ کو ناظم الاسلام نے کہا تھا کہ ’قومی کرکٹرز کو وہ کروڑوں ٹکے (بنگلہ دیشی کرنسی) واپس کرنے چاہییں جو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ان پر خرچ کرتا ہے۔‘ اس بیان کے بعد کرکٹ حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا تھا اور کھلاڑیوں نے ڈائریکٹر کے استعفے تک ہر سطح پر میچز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
سی ڈبلیو اے بی کے صدر محمد متھن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’بی سی بی ڈائریکٹر کے ریمارکس نے پوری کرکٹ برادری کو شدید دکھی کیا ہے اور یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔‘
انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر بی پی ایل میچ سے قبل ناظم الاسلام نے استعفیٰ نہ دیا تو بائیکاٹ کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔‘
