وفاقی حکومت نے پی ٹی وی ہوم کو آؤٹ سورس کر کے نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس بات کا انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں ہوا، جہاں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک شاخ کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس رکن قومی اسمبلی ندیم عباس کی زیرِصدارت منعقد ہوا۔
مزید پڑھیں
-
سرکاری ٹی وی پر عمران خان کے خلاف اشتہار پر سخت ردعملNode ID: 700846
-
سرکاری ٹی وی کی اینکر مہتاب چنا جنہوں نے ضیا الحق کو ’نہ‘ کہاNode ID: 791391
اجلاس میں وفاقی وزیر اور سیکریٹری وزارت اطلاعات و نشریات نے قائمہ کمیٹی کو پی ٹی وی کی بہتری اور اس میں کی جانے والی اصلاحات پر بریفنگ دی۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی ہوم کو آؤٹ سورس کر کے نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کے حوالے سے رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ سرکاری ٹیلی ویژن سے سفارشی اینکرز کو نکال دیا گیا ہے۔ بہتر اینکرز آئیں گے تو ریٹنگ اور اشتہارات بھی آئیں گے، جبکہ گھوسٹ ورکرز کے خاتمے کے لیے فنگر پرنٹ حاضری کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی کا تفصیلی بزنس پلان قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، جبکہ پی ٹی وی سپورٹس کی بہتری پر نجی سپورٹس چینلز بھی مجھ سے خوش نہیں ہیں.
کمیٹی اجلاس کے دوران سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق خلیل نے بتایا کہ سرکاری ٹیلی ویژن کو سٹریٹجک اثاثہ ڈکلیئر کیا گیا ہے۔
کمیٹی اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سحر کامران نے سرکاری ٹیلی ویژن میں ریگولر مینجنگ ڈائریکٹر تعینات نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بورڈ کی تعیناتیاں مکمل کر کے سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے، بورڈ کے چیئرمین کا تقرر بھی وفاقی کابینہ ہی کرے گی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر اطلاعات اور پیپلز پارٹی کی رکن کمیٹی سحر کامران کے درمیان گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے تبصرہ کیا کہ آپ کی جماعت کی جانب سے سرکاری ٹیلی ویژن میں بھرتیوں کے لیے بے پناہ سفارشیں کی گئیں۔
اس پر رکن کمیٹی سحر کامران کا کہنا تھا کہ خدشات کا اظہار کرنا ہمارا حق ہے، ہماری بات کسی پارٹی کی بنیاد پر نہیں کی جا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین برسوں میں سرکاری ٹیلی ویژن میں 572 بھرتیاں کی گئیں۔
وزیر اطلاعات نے جواب دیا کہ نگراں دورِ حکومت میں زیادہ بھرتیاں ہوئیں، اگر اس معاملے پر مزید بات ہوئی تو معاملہ ایوانِ صدر تک جائے گا۔
’پی ٹی وی سپورٹس کی ویورشپ سب سے زیادہ‘
کمیٹی اجلاس کے دوران عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ پی ٹی وی سپورٹس کی ویورشپ سب سے زیادہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی سپورٹس کی ویورشپ دیگر چینلز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، جبکہ ایشیا کپ میں پاکستان اور انڈیا کا میچ تاریخ میں سب سے زیادہ پی ٹی وی سپورٹس پر دیکھا گیا۔

’ملازمین کے ریکارڈ کے لیے آن لائن سسٹم‘
کمیٹی اجلاس کے اختتام پر ڈائریکٹر ایچ آر پی ٹی وی نے بتایا کہ ادارے میں گھوسٹ ملازمین کی بڑی تعداد موجود تھی، جن کے خاتمے کے لیے مینوئل سسٹم ختم کر کے آن لائن نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کمیٹی کو پی ٹی وی کے ایچ آر مینجمنٹ ڈیش بورڈ سسٹم پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اس نظام میں اس وقت پی ٹی وی میں موجود تمام ملازمین کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، جس میں ان کی حاضری سے لے کر کارکردگی تک تمام معلومات آن لائن رپورٹ ہوتی ہیں۔
کمیٹی اجلاس کے آخر میں سحر کامران اور وزیر اطلاعات کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔سحر کامران نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی وی میں ایک میک اپ آرٹسٹ خاتون کی جگہ ان کے شوہر ڈیوٹی دیتے ہیں اور تنخواہ بھی وہی وصول کر رہے ہیں۔
اس پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میں میک اپ نہیں کرواتا، وہ تو فردوس عاشق اعوان کرواتی تھیں۔












