Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چکوال میں 10 سالہ بچی کی ہلاکت کی شفاف تحقیقات کی جا رہی ہے: سی سی ڈی پنجاب

سی سی ڈی کے مطابق متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کے کرائم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے کہا ہے کہ چکوال میں ڈکیٹی کی واردات کے دوران 10 سالہ بچی کی ہلاکت کے انتہائی افسوسناک واقعے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جا رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لا کر ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
سی سی ڈی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 جون کو مسلح ڈکیتی کی واردات کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آنے والے واقعے میں 10 سالہ بچی ہانیہ کے مرنے پر سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
سی سی ڈی کے مطابق 10 جون کی رات تقریباً پونے بارہ بجے اہلکاروں نے مسلح ڈکیتی کی ایک جاری واردات کے دوران مداخلت کی۔ مسلح ڈاکوؤں نے ایک فیملی کی گاڑی کو روک کر کار سواروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔
اس دوران ہونے والے مقابلے میں ملزمان نے کارروائی کرنے والے پولیس اہلکار پر فائرنگ کی، جس کے بعد دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس افراتفری میں متعلقہ پولیس افسر نے غلط فہمی کی بنیاد پر یہ سمجھا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس نے فائرنگ کر دی۔ اسی فائرنگ کی زد میں آ کر 10 سالہ بچی جان سے گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔
سی سی ڈی کے مطابق یہ واقعہ افسوسناک انسانی غلطی کا نتیجہ ہے اور متعلقہ افسر کا طرزِ عمل ادارے کے معیاری آپریشنل طریقہ کار (SOPs) اور طاقت کے استعمال کے اصولوں سے انحراف تھا۔
محکمے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسر کو اسی روز معطل کر کے حراست میں لے لیا، بعد ازاں اسے باضابطہ گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
سی سی ڈی کے مطابق متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ فرانزک شواہد، بشمول اسلحہ اور گولیوں کے خول، تحویل میں لے کر تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
محکمے نے مزید بتایا کہ متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور انہیں تحقیقات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ خاندان نے قانونی کارروائی اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے۔
سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ ادارہ سخت ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے اور طاقت کے ’کم سے کم استعمال‘ کے اصول پر مکمل عمل درآمد اس کی بنیادی پالیسی ہے۔ کسی بھی انحراف کی صورت میں سخت احتساب کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات جاری ہیں تاکہ حقائق سامنے لا کر ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔

 

شیئر: