ایران جنگ کے پھیلنے سے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات، قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ
عراق نے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی کمی اور برآمدی راستہ نہ ہونے کے باعث اپنی تیل پیداوار تقریباً 15 لاکھ بیرل روزانہ کم کر دی ہے۔ (فوٹو: شٹرسٹاک)
جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی طویل ہوتی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ سے اہم تیل اور گیس کی سپلائی میں طویل رکاوٹوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 2.65 ڈالر (3.26 فیصد) اضافے کے ساتھ 83.99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مسلسل پانچویں سیشن میں اضافہ ہے۔
جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ روڈ 2.76 ڈالر (3.70 فیصد) بڑھ کر 77.42 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں نے جمعرات کو ایک نوٹ میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حملوں کے بعد سپلائی کو لاحق خطرات کی وجہ سے خام تیل کی منڈیاں بدستور دباؤ میں ہیں، اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی کے بہاؤ پر خدشات مرکوز ہیں۔
جمعرات کی صبح سویرے ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی ایک نئی لہر داغی، جس کے باعث لاکھوں شہریوں کو بم شیلٹرز میں پناہ لینا پڑی۔ یہ تنازع اپنے چھٹے دن میں داخل ہوگیا ہے۔
بدھ کے روز ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز کو تباہ کر دیا جس میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ترکی کی جانب داغا گیا ایک ایرانی بیلسٹک میزائل بھی تباہ کر دیا۔
ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں یا اس کے قریب تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق کویت کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کے پاس دھماکوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
کشیدگی میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے مقتول سپریم لیڈر کے بااثر بیٹے کو ان کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ تہران دباؤ کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ صورتحال اس کے پانچ دن بعد سامنے آئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایک فوجی مہم شروع کی جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور عالمی منڈیاں ہل کر رہ گئیں۔
حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ عراق، جو اوپیک کا دوسرا بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، نے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی کمی اور برآمدی راستہ نہ ہونے کے باعث اپنی پیداوار تقریباً 15 لاکھ بیرل روزانہ کم کر دی ہے۔
قطر جو خلیج میں مائع قدرتی گیس کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، نے بدھ کے روز گیس کی برآمدات پر فورس میجور کا اعلان کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پیداوار کو معمول پر آنے میں کم از کم ایک مہینہ لگ سکتا ہے۔
دو آئل ٹریڈرز نے کہا کہ انہیں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع ہے کیونکہ اس جنگ کے جلد ختم ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت نے کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صاف شدہ ایندھن کی برآمد کے نئے معاہدوں پر دستخط عارضی طور پر روک دیں اور پہلے سے طے شدہ کھیپوں کو بھی منسوخ کرنے کی کوشش کریں۔
