جدہ میں ’بادبان میلہ‘ وزیٹرز کے لیے ماضی کا ایک منفرد سمندری تجربہ
جدہ میں ’بادبان میلہ‘ وزیٹرز کے لیے ماضی کا ایک منفرد سمندری تجربہ
جمعہ 16 جنوری 2026 19:05
میلے کے انتظامات ہیریٹیج کمشن کی جانب سے کیے گئے ہیں(فوٹو، ایس پی اے)
جدہ کے علاقے الحمراء میں لکڑی سے بنائے گئے سمندری جہازوں کے میلہ ’بادبان‘ میں وزیٹرز کو عہدِ رفتہ کے سمندری سفرکے منفرد تجربے سے روشناس کرایا جارہا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کےمطابق بادبان میلہ ثقافتی اتھارٹی کی جانب سےلگایا گیا ہے جس میں آنےوالوں کو سعودی عرب کی قدیم بحری تہذیب و ثقافت کےبارے میں اہم معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
میلے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ وزیٹرز کو مرحلہ وارماضی میں سمندری زندگی کے بارے میں تفصیلی طورپرمطلع کیا جائے۔
عہدِرفتہ میں موتیوں کی تلاش کس طرح کی جاتی تھی(فوٹو،ایس پی اے)
بادبان میلے میں سب سے پہلا زون ’القلافہ‘ ہے یہاں آنے والوں کو ماضی میں رائج لکڑی اوربادبانوں سے بنے سمندری جہازوں کی تیاری کے مراحل کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔
دوسرے زون کو ’الدانہ‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں سمندری خزانہ ’موتیوں‘ کی تلاش کے قدیم وروایتی طریقوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
تیسرے علاقے کو ’القفال‘ کا عنوان دیا گیا ہے اس زون میں ماضی میں ماہی گیروں کی واپسی کے لمحات کی عکاسی کی گئی ہے جب وہ اپنی کشتیوں میں مچھلیاں بھرکرخوشی کے گیت گاتے لوٹا کرتے تھے۔
میلے کا ایک گوشہ ماضی کے ماہی گیروں کی زندگی کو اجاگر کرتا ہے(فوٹو، ایس پی اے)
’الطواشین‘ زون قدیم وروایتی بازار کی عکاسی کرتا ہے جہاں شہر کےلوگ ضروریات زندگی کی خریداری کےلیے آیا کرتے تھے۔
اس علاقے میں قدیم طرز کی دکانیں بنائی گئی جبکہ دکاندار روایتی ملبوسات میں موجود ہیں۔
میلے کا ایک گوشہ ماضی میں ماہی گیروں کی سمندری زندگی کو بیان کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ عہدِرفتہ میں جب ٹیکنالوجی کا نام ونشان نہیں تھا ماہی گیر کھلے سمندر میں ستاروں کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کرتے اور درست سمت کا تعین کرتے تھے۔
میلے کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے (فوٹو، ایس پی اے)
’بادبان گراونڈ‘ کو فیملیز کے لیے معلوماتی و تفریحی علاقے کے طورپر پیش کیا گیا ہے جہاں سمندری زندگی کی مجسم عکاسی کرتے ہوئے سمندری ماڈلز اور ماہی گیری کی اشیا کو رکھا گیا ہے۔