Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امیگریشن ایجنٹس کا امریکی ویزا پابندی پر اظہار تشویش، ’پاکستان کی معیشت پر اثر ڈالے گی‘

صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال جنوری میں دوبارہ صدر بننے کے بعد امیگریشن پر سخت پالیسی اختیار کی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
پاکستانی امیگریشن ایجنٹس اور عوام نے امریکہ کی جانب سے ویزا پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرینٹ ویزوں کے عمل کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اعلان بدھ کو محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے کیا۔
اس اقدام کو واشنگٹن کی سخت امیگریشن پالیسی کے حصے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اس پابندی سے لاطینی امریکی ممالک جیسے برازیل، کولمبیا، یوروگوئے، بوسنیا اور البانیا، جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش، اور افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے کئی ممالک کے درخواست گزار متاثر ہوں گے۔
کراچی کے ایک ٹریول اور امیگریشن ایجنٹ، محمد یاسین نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  ’یہ تشویش کا باعث ہے۔ وہ تمام لوگ جو طویل عرصے سے ویزے کے منتظر تھے، جن کی اپائنٹمنٹ بھی مقرر تھی، ان کے ویزے معطل ہو جائیں گے۔ یہ پابندی اور یہ خبر ان پر اثر ڈالے گی۔‘
ایک مقامی شہری اور بینکر، عمر علی نے کہا کہ یہ پابندی پاکستان کی معیشت پر اثر ڈالے گی کیونکہ بہت سے پاکستانی امریکی ڈالر کماتے اور وطن بھیجتے ہیں، جو ملک کی معیشت کے لیے سود مند ہے۔
ایک اور مقامی شہری، انور فاروقی، نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور پاکستان، جو امریکہ کا ایک قابلِ اعتماد دوست ہے، کے لیے یہ سہولت برقرار رکھیں۔
امریکی سفارتخانوں کو بھیجے گئے کیبل میں کہا گیا کہ ان ممالک کے شہریوں نے امریکہ میں عوامی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس اقدام سے امریکی وزٹر ویزوں پر اثر نہیں پڑے گا، جو اس وقت توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ امریکہ 2026 ورلڈ کپ اور 2028 اولمپکس کی میزبانی کر رہا ہے۔
یہ فیصلہ نومبر میں امریکی سفارتکاروں کو بھیجی گئی ہدایت کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ویزا کے درخواست گزار مالی طور پر خودکفیل ہوں اور امریکہ میں رہتے ہوئے سرکاری امداد پر انحصار نہ کریں۔
صدر ٹرمپ نے جنوری میں دوبارہ صدر بننے کے بعد امیگریشن پر سخت پالیسی اختیار کی ہے۔ ان کی انتظامیہ نے امیگریشن نفاذ کو ترجیح دی، وفاقی ایجنٹس کو بڑے شہروں میں تعینات کیا، جن کی مہاجرین اور امریکی شہریوں کے ساتھ کشیدگی اور پرتشدد مقابلے بھی ہوئے۔

شیئر: