لاہور ہائی کورٹ کے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم، 8 افراد گرفتار
لاہور ہائی کورٹ کے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم، 8 افراد گرفتار
جمعہ 16 جنوری 2026 15:52
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
این سی سی آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مہم میں ملوث 170 اکاؤنٹس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز) ہے
لاہور ہائی کورٹ کے ججز، خاص طور پر خواتین ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی حالیہ توہین آمیز مہم کے معاملے پر کریک ڈاون جاری ہے۔
اس حوالے سے عدالت میں جاری مقدمے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس مہم میں ملوث آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ 170 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جو نازیبا مواد شیئر کرنے میں ملوث تھے۔
عدلیہ کے خلاف یہ مہم دسمبر کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کی بعض شقوں کو معطل کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم کا آغاز ہوا، جس کا نشانہ چیف جسٹس سمیت خواتین ججز کو بنایا گیا۔
مہم کی نوعیت انتہائی توہین آمیز اور کردار کشی پر مبنی تھی، جس میں ججز کے خلاف جھوٹی شکایات سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی گئیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نازیبا، توہین آمیز اور عدالت کی توہین کرنے والا مواد شیئر کیا گیا۔
اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ میں 13 جنوری کو وکیل چوہدری پرویز بھدر نے ایک پٹیشن دائر کی تھی۔ پٹیشن میں الزام لگایا گیا کہ سوشل میڈیا پر عدلیہ کے خلاف منظم طور پر توہین اور کردار کشی کی جا رہی ہے، خاص طور پر خواتین ججز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عدالت نے 14 جنوری کو سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کو حکم دیا کہ وہ اس مہم میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کرے اور توہین کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’عدلیہ کی توہین کسی بھی طرح کی آئینی آزادی کے تحفظ میں نہیں آتی اور اسے قانونی کارروائی سے مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔‘
گذشتہ روز جمعرات کو سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مہم میں ملوث 170 اکاؤنٹس کی نشاندہی ہو چکی ہے اور آٹھ افراد کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کی بعض شقوں کو معطل کیے جانے کے بعد اس مہم کا آغاز ہوا۔ (فائل فوٹو: اے پی پی)
عدالت نے ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو ذاتی طور پر طلب کیا اور خبردار کیا کہ اگر مزید توہین آمیز مواد سامنے آیا تو وہ ذمہ دار ہوں گے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ سوشل میڈیا پر ججز کے خلاف نازیبا مواد کی نگرانی کی جائے اور اسے فوری طور پر ہٹایا جائے۔ اس مہم کو ’سائبر دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے جسٹس باجوہ نے کہا کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔
پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے بھی اس مہم کی شدید مذمت کی ہے اور این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ وی لاگرز اور دیگر ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
پی بی سی کے وائس چیئرمین چوہدری طاہر نصر اللہ وڑائچ نے کہا کہ یہ مہم لاہور ہائی کورٹ کے اضافی ججز کی تصدیق کے لیے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے پہلے شروع کی گئی تھی اور اس کا مقصد عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
اس مہم کو ’سائبر دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔ (فائل فوٹو: کمپیوٹرونکس)
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائیں اور انہیں سخت سزا دی جائے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے مزید گرفتاریاں متوقع ہیں جبکہ عدالت اگلی سماعت میں جامع رپورٹ کا جائزہ لے گی۔