پاکستان اور بنگلہ دیش کی ممکنہ دفاعی معاہدے اور جے ایف 17 طیاروں کی خریداری پر بات چیت
پاکستان اور بنگلہ دیش کی ممکنہ دفاعی معاہدے اور جے ایف 17 طیاروں کی خریداری پر بات چیت
جمعہ 16 جنوری 2026 19:37
ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش احتیاط کے ساتھ آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ڈھاکہ اور اسلام آباد قریبی تعلقات استوار کر رہے ہیں اور ممکنہ دفاعی معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق دہائیوں پر محیط کشیدہ تعلقات کے بعد سنہ 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو ایک طلبہ قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
پاکستان کے جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کی بنگلہ دیش کو فروخت سے متعلق ممکنہ دفاعی معاہدے پر بات چیت اس وقت سامنے آئی جب بنگلہ دیش کے ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے گذشتہ ہفتے راولپنڈی کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
بنگلہ دیش کی فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش ایئر فورس کے لیے لڑاکا طیاروں کی خریداری اس وقت ’ابتدائی مرحلے‘ میں ہے اور فی الحال ’جائزے کے عمل‘ سے گزر رہی ہے۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل سمیع الدین دولت چوہدری نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’جائزے کا عمل یہ طے کرے گا کہ کس ملک کی پیشکش ہمارے لیے موزوں ہے۔ ایئر چیف کا پاکستان کا دورہ بھی اسی جائزے کے عمل کا حصہ ہے۔ اس سے قبل وہ چین اور اٹلی کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔ مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔‘
اعلیٰ سطحی فوجی حکام کے درمیان یہ بات چیت بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں تازہ ترین پیش رفت ہے، جن میں سنہ 1971 کی جنگ کے بعد پہلی بار براہِ راست تجارت کی بحالی اور اس ماہ کے آخر تک ڈھاکہ سے کراچی کے لیے باقاعدہ پرواز کے آغاز کی توقع شامل ہے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے معطل تھی۔
اگرچہ دونوں جانب سے تعلقات کو وسعت دینے کی کوششیں نظر آتی ہیں، تاہم ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر دلوار حسین کے مطابق نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت ’عملی حقیقت پسندی‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی جانب سے پیش رفت کے مقابلے میں بنگلہ دیش انتہائی احتیاط کے ساتھ قدم اٹھا رہا ہے۔ بنگلہ دیش ایک متوازن حکمت عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
’موجودہ حکومت مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا یہ مطلب نہیں کہ بنگلہ دیش کسی خاص بلاک کی طرف جا رہا ہے، بلکہ وہ تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات چاہتا ہے۔‘
پروفیسر دلوار حسین کے مطابق تجارت اور معیشت فطری طور پر ڈھاکہ کے لیے تعاون کے زیادہ پسندیدہ شعبے ہیں، جبکہ فوجی تعاون کس حد تک بڑھے گا، اس کے لیے ’مزید وقت درکار ہے۔‘
بنگلہ دیش ایئر فورس کے ریٹائرڈ افسر اور دفاعی ماہر اشفاق الٰہی چوہدری نے کہا کہ بنگلہ دیش کو ’جدید طیاروں کی شدید ضرورت‘ ہے کیونکہ گذشتہ دو دہائیوں سے اس کی فوج نے نئے لڑاکا طیارے حاصل نہیں کیے۔
انہوں نے بتایا کہ ’بنگلہ دیش ایئر فورس کو فوری طور پر جدید لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس چین میں تیار کردہ ایف-7 طیارے تھے، لیکن اب ان کی پیداوار بند ہو چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان ہمارے لیے لڑاکا طیاروں کا ایک ممکنہ ذریعہ ہو سکتا ہے، تاہم اس میں جیوپولیٹکس بھی شامل ہے۔‘
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو بنگلہ دیش کا حریف پڑوسی انڈیا کس نظر سے دیکھے گا۔
پاکستان کے جے ایف-17 لڑاکا طیارے گذشتہ برس مئی میں انڈیا کے ساتھ جنگ میں کامیابی کے بعد عالمی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان کے جے ایف-17 لڑاکا طیارے، جو چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے کثیر المقاصد جنگی طیارے ہیں، گذشتہ برس مئی میں انڈیا کے ساتھ جنگ میں کامیابی کے بعد عالمی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس فضائی جھڑپ کے دوران اس نے انڈین فضائیہ کے کئی لڑاکا طیارے مار گرائے، جس کا بعد میں انڈین حکام نے ابتدائی تردید کے بعد اعتراف تو کیا، تاہم گرنے والے طیاروں کی تعداد نہیں بتائی۔
اشفاق الٰہی چوہدری نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ہماری دوستی، انڈیا کے ساتھ ہماری دوستی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کے ساتھ ممکنہ دفاعی خریداری کے اس معاہدے میں ہمیں انتہائی محتاط رہنا ہو گا تاکہ یہ طویل مدت تک پائیدار ثابت ہو۔‘