Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد امریکی کانگریس کے وفد کا کشیدگی کم کرنے کے لیے ڈنمارک کا دورہ

سنیچر کی سہ پہر کوپن ہیگن میں ہزاروں افراد نے گرین لینڈ کے حق میں مارچ کیا۔ (فوٹو: اے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد کہ اگر ممالک امریکہ کی جانب سے سٹریٹجک آرکٹک جزیرے گرین لینڈ پر قبضے کی حمایت نہیں کریں گے تو ان پر محصولات (ٹیرف) عائد کیے جائیں گے، سنیچر کو امریکی کانگریس کے دو جماعتی وفد نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کو اپنی حمایت کا یقین دلانے کی کوشش کی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وفد کے سربراہ سینیٹر کرس کونز، جو ریاست ڈیلاویئر سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ ہیں، نے کوپن ہیگن میں کہا کہ گرین لینڈ کے بارے میں موجودہ بیانات مملکت ڈنمارک میں تشویش پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس صورتحال میں کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں۔
کونز نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ مملکت ڈنمارک کے عوام امریکی عوام پر اپنے اعتماد کو ختم نہیں کریں گے۔‘
سینیٹر کرس کونز نے مزید کہا کہ امریکہ ڈنمارک اور نیٹو کا ان ’تمام کاموں کے باعث جو ہم نے مل کر کیے ہیں، احترام کرتا ہے۔‘
اسی دوران سنیچر کی سہ پہر کوپن ہیگن میں ہزاروں افراد نے گرین لینڈ کے حق میں مارچ کیا، جن میں سے کئی کے ہاتھوں میں گرین لینڈ کے جھنڈے تھے۔ بعض مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’میک امریکہ سمارٹ اگین‘ اور ’ہینڈز آف‘ جیسے نعرے درج تھے۔
کونز کے بیانات وائٹ ہاؤس کے موقف کے برعکس تھے۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کے مطالبے کو یہ کہہ کر جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے کہ چین اور روس اس جزیرے پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں، جہاں اہم معدنیات کے وسیع اور اب تک غیراستعمال شدہ ذخائر موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے طاقت کے ذریعے اس علاقے کو حاصل کرنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
تاہم کرس کونز نے کہا کہ ’اس وقت گرین لینڈ کو کوئی سکیورٹی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ کئی ماہ سے اس بات پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ امریکہ کو نیٹو کے اتحادی ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔
انہوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ اگر یہ آرکٹک جزیرہ امریکہ کے قبضے میں نہ آیا تو یہ صورت حال ’ناقابل قبول‘ہو گی۔

گرین لینڈ میں معدنیات کے وسیع اور اب تک غیراستعمال شدہ ذخائر موجود ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

وائٹ ہاؤس میں دیہی صحت سے متعلق ایک تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ انہوں نے یورپی اتحادیوں کو دواسازی کی مصنوعات پر ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کام گرین لینڈ کے لیے بھی کر سکتا ہوں۔ اگر ممالک گرین لینڈ کے معاملے پر ہمارا ساتھ نہیں دیتے تو میں ان پر ٹیرف لگا سکتا ہوں، کیونکہ ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ تو میں ایسا کر سکتا ہوں۔‘
اس ہفتے کے آغاز میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔
اگرچہ اس ملاقات سے اختلافات حل نہ ہو سکے، تاہم ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق ہوا، جس کے مقصد کے بارے میں بعدازاں ڈنمارک اور وائٹ ہاؤس نے ایک دوسرے سے بالکل مختلف عوامی موقف اختیار کیے۔

سینیٹر کرس کونز نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ مملکت ڈنمارک کے عوام امریکی عوام پر اپنے اعتماد کو ختم نہیں کریں گے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)

یورپی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق فیصلے کرنا صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کا حق ہے، جبکہ ڈنمارک نے اس ہفتے کہا کہ وہ اتحادیوں کے تعاون سے گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔

 

شیئر: