Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی، لوگ پریشان ہیں کہ آگے زندگی کیسے چلے گی

کراچی کے گُل پلازہ کے باہر اتوار کی صبح بھی اضطراب اور بے یقینی کی فضا قائم تھی۔ سیاہ دھوئیں کی بو اب قدرے مدھم ہو چکی تھی، مگر لوگوں کے چہروں پر پھیلا خوف بدستور نمایاں تھا۔
قیصر علی رات بھر عمارت کے باہر کھڑے رہے۔ ان کی نظریں کبھی جلتی ہوئی عمارت کی طرف اٹھتیں اور کبھی ریسکیو اہلکاروں کی جانب، مگر ہر گزرتا لمحہ ان کی تشویش میں اضافہ کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے بعد سے ان کی اہلیہ، بہن اور بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ وہ انتظامیہ سے بار بار اپیل کر رہے تھے کہ کسی طرح انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی خبر مل جائے، لیکن انتظار کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔
قیصر علی جیسے کئی خاندان گل پلازہ کے باہر جمع تھے، جہاں وقت گویا رک سا گیا تھا۔ کوئی موبائل فون ہاتھ میں لیے کسی کال کا منتظر تھا تو کوئی فہرستوں میں نام ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہر ایمبولینس کے آنے پر امید جاگتی اور پھر چند لمحوں بعد مایوسی میں بدل جاتی۔ ان لوگوں کے لیے یہ صرف ایک عمارت میں لگنے والی آگ نہیں تھی، بلکہ ان کی زندگیوں کا سب سے کڑا امتحان بن چکی تھی۔
خیال رہے کہ سنیچر کی رات کو کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگنے والی آگ سے اب تک ایک فائر فائٹر سمیت چھ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو چکے ہیں۔
اتوار کی رات کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آگ سے متاثرہ پلازے کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک کی معلومات کے مطابق چھ لوگوں کی جانیں گئی ہیں، جس میں ایک کے ایم سی کا فائر فائٹر بھی ہے۔‘
’اس کے علاوہ 22 لوگ زخمی ہیں جن کو ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتہ ہیں۔‘
دوسری جانب، متاثرہ تاجروں اور کارکنوں کے لیے یہ حادثہ برسوں کی محنت کے یک لخت خاتمے کے مترادف تھا۔ یاسمین بی بی، جو اپنی بیٹی کے ساتھ بیسمنٹ میں موجود تھیں، نے بتایا کہ آگ اچانک بھڑکی اور لوگوں نے چیخ چیخ کر باہر نکلنے کو کہا۔ ان کے مطابق صرف پندرہ منٹ کے اندر اندر شعلے پوری عمارت میں پھیل گئے۔ وہ جان تو بچانے میں کامیاب ہو گئیں، مگر ان کا کہنا تھا کہ ان کی دکان اور جمع پونجی سب کچھ اسی آگ میں جل کر راکھ ہو گیا۔ اب وہ یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ آگے زندگی کیسے چلے گی۔
ریسکیو کارروائیوں میں درپیش مشکلات نے اس سانحے کی شدت کو مزید بڑھا دیا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان دانیان علی کے مطابق آگ کی اطلاع ملتے ہی عملہ موقع پر پہنچ گیا تھا، تاہم ایم اے جناح روڈ پر جاری ترقیاتی کام، سڑک کی کھدائی اور تنگ راستوں کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ شدید گرمی، دھواں اور عمارت کی کمزور ہوتی ساخت نے فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکاروں کے لیے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔
سندھ حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری انکوائری اور متاثرین کو مدد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے بھی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم گل پلازہ کے باہر کھڑے لوگوں کے لیے سرکاری بیانات سے زیادہ اہم وہ خبر ہے، جو انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں مل سکے—ایک ایسی خبر، جس کا انتظار ابھی ختم نہیں ہوا۔

شیئر: