Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ماں کے جوتے پرانے ہو گئے‘، چینی بچے کے خلوص کی انوکھی کہانی

دکان دار کا کہنا تھا کہ بچے کے ہاتھ میں نوٹوں کا ڈھیر اس کی مہینوں کی محنت کا ثبوت تھا (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
چین میں ایک چھوٹے بچے کی اپنی ماں کے لیے محبت کے اظہار نے جہاں سوشل میڈیا پر لاکھوں صارفین کو متاثر کیا ہے، وہیں دکاندار کی آنکھیں بھی نم کر دیں۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق شمالی چین کے صوبے ہیبئی سے تعلق رکھنے والے 11 سالہ پرائمری سکول کے طالب علم نے مسلسل چھ ماہ تک اپنا جیب خرچ جمع کیا تاکہ وہ اپنی ماں کو ان کی سالگرہ پر جوتوں کا تحفہ دے سکے۔
ژانگ نامی یہ بچہ جب ایک مقامی دکان پر پہنچا تو اس کے ہاتھ میں ایک ایک یوآن کے نوٹوں کی گڈی تھی جو اس نے گزشتہ سال مئی سے جوڑنا شروع کی تھی۔
اس بچے نے دکان دار کو بتایا کہ اس نے اپنی ماں کے پرانے اور گِھسے ہوئے جوتے دیکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ انہیں نئے جوتے لے کر دے گا تاکہ وہ روزانہ کام پر جاتے ہوئے انہیں پہن سکیں۔
بچے کے اس گہرے مشاہدے اور ماں کے لیے اس کی تڑپ نے دکاندار کو بے حد متاثر کیا۔
بچے کے پاس کل 200 یوآن جمع تھے جو اسے ہر ہفتے اپنی دادی کی جانب سے ناشتے کے لیے ملنے والے پیسوں سے بچائے تھے۔ دکاندار نے بچے کے خلوص کو دیکھتے ہوئے نہ صرف اسے بہترین سفید سپورٹس جوتے دکھائے بلکہ اسے خاص رعایت بھی دی جس کے بعد بچے نے 100 یوآن سے کچھ زائد رقم ادا کر کے وہ جوتے خرید لیے۔

انٹرنیٹ پر یہ وائرل ہوتے ہی صارفین نے ژانگ کو ایک مثالی بیٹا قرار دیتے ہوئے اس کے اقدام کو سراہا ہے (فائل فوٹو: دوژن)

دکاندار کا کہنا تھا کہ بچے کے ہاتھ میں نوٹوں کا ڈھیر اس کی مہینوں کی محنت اور اپنی ماں کے لیے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
بعد ازاں بچے کی ماں نے ان جوتوں کو پہن کر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اس اچانک ملنے والے تحفے پر بے حد حیران اور خوش نظر آئیں۔
انہوں نے اپنے بیٹے کی اس محبت اور دکاندار کے تعاون پر بے حد شکریہ کا اظہار کیا۔
انٹرنیٹ پر اس کہانی کے وائرل ہوتے ہی صارفین نے ژانگ کو ایک مثالی بیٹا قرار دیتے ہوئے اس کے اقدام کو سراہا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹی سی عمر میں اس نے ذمہ داری اور ایثار کا مظاہرہ کیا۔

شیئر: